سوویت یونین کا زوال یا کیرالہ میں انتخابی اتار چڑھاؤ سرمایہ داری کی حتمی فتح نہیں ہے۔ جدید تکنیکی ترقی کے باوجود معاشی ناہمواری، طبقاتی جبر اور استحصال کی ماہیت آج بھی برقرار ہے۔ جب تک دنیا میں دولت کا ارتکاز، جنگ اور بھوک قائم ہے، مساوات اور عدلِ اجتماعی کے لیے انسانی مزاحمت نئے استعاروں کے ساتھ زندہ رہے گی کیونکہ تاریخ کا سفر ابھی جاری ہے۔
تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تاریخ اپنے جوہری، جدلیاتی اور ارتقائی تسلسل میں کبھی سکونِ مطلق کی اسیری قبول نہیں کرتی۔ تہذیبیں افقِ وجود پر طلوع ہوتی ہیں، سلطنتیں گردابِ زماں میں تحلیل ہو جاتی ہیں، فکری و سیاسی مکاتبِ نظر صعود و ہبوط کے متغیر مدارج سے گزرتے ہیں، اور وہ نظریاتی بیانیے بھی، جنھیں کسی دور میں ابدی صداقت، حتمی مرجعیت اور ناقابلِ تردید حقیقت کا درجہ عطا کیا جاتا ہے، وقت کے سیّال اور بے رحم بہاؤ میں تدریجاً ضعف، تشکیک اور انحلال کی علامات سے آشنا ہونے لگتے ہیں۔ تاہم انسانی شعور کا سب سے عظیم فکری مغالطہ یہ ہے کہ وہ اکثر اقتدار کے انہدام کو مسائل کے اضمحلال، اور ریاستی زوال کو تاریخی تضادات کے اختتام پر محمول کرنے لگتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عصرِ حاضر میں، جب سوویت اشتراکیت جیسی عظیم الجثہ ریاستی قوت صفحۂ ہستی سے مٹ چکی ہے اور کیرالہ جیسے خطوں میں بائیں بازو کی سیاست اپنی سابقہ ہمہ گیریت، نظریاتی مرکزیت اور مطلق بالادستی سے محرومی کا تاثر دے رہی ہے، تو سرمایہ دارانہ شعور کے حامل بعض اذہان اسے سرمایہ داری کی قطعی، حتمی اور غیرمنازع فتح کے طور پر تعبیر کرنے لگتے ہیں، حالانکہ حقیقت اپنی تہہ داری، پیچیدگی، جدلیاتی کثافت اور فکری اضطراب کے اعتبار سے کہیں زیادہ عمیق، ہمہ گیر اور کثیرالابعاد ہے۔
ریاستی ہیئتیں فنا ہو سکتی ہیں مگر انسانی تضادات معدوم نہیں ہوتے۔ اقتدار کے جغرافیے تبدیل ہو سکتے ہیں مگر معاشی استحصال، طبقاتی جبر، سماجی ناہمواری اور انسان کی انسان پر بالادستی کی نفسیات یکسر نابود نہیں ہوتیں۔ اگر آج بھی کرۂ ارض کے کسی گوشے میں ایک مزدور اپنی پوری عمر مشقتِ مسلسل اور محنتِ شاقہ کے باوجود ابتدائی انسانی وقار، معاشی تحفظ اور سماجی حرمت سے محروم ہے، اگر جنگی ملبوں کے نیچے معصوم اجساد دفن ہو رہے ہیں، اگر کروڑوں انسان غذائی عدمِ تحفظ، نسلی تعصب، افراطِ زر، قرضی غلامی اور معاشی بے یقینی کے شکنجۂ استبداد میں محصور ہیں، تو پھر یہ دعویٰ کہ تاریخ اپنے بنیادی تنازعات، طبقاتی تصادمات اور اخلاقی بحرانوں سے عہدہ برآ ہو چکی ہے، درحقیقت ایک فکری خودفریبی، تہذیبی خوش گمانی اور شعوری مغالطے کے سوا کچھ نہیں۔
اکیسویں صدی بلاشبہ حیرت انگیز سائنسی انکشافات، تکنیکی انقلابات اور ڈیجیٹل تغیرات کی صدی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل سرمایہ کاری، بایو ٹیکنالوجی اور کارپوریٹ ٹیکنالوجی نے انسانی تمدن کو ایسی غیرمعمولی سرعت، حیرت انگیز وسعت اور غیرمتوقع جہات سے آشنا کیا ہے جن کا تصور بھی ماضی کے ادوار میں ممکن نہ تھا۔ دنیا کے عظیم میٹروپولیٹن مراکز میں فلک شگاف عمارات سرمایہ دارانہ ترقی، مالیاتی غلبے اور کارپوریٹ طاقت کی علامت بن کر ایستادہ ہیں، مگر انہی سنگی میناروں کے سایوں میں کروڑوں انسان معاشی بے یقینی، نفسیاتی اضطراب، سماجی تنہائی اور وجودی محرومی کے تاریک غاروں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ غزہ کے منہدم شفاخانے، افریقہ کے قحط زدہ خطے، ایشیا کی عرق ریز فیکٹریاں اور لاطینی امریکا کی قرضی معیشتیں اس امر کی ناقابلِ انکار شہادت فراہم کرتی ہیں کہ جدید دنیا نے استحصال کی ہیئتیں ضرور تبدیل کر دی ہیں، مگر اس کی ماہیت، روح اور بنیادی ساخت آج بھی برقرار ہے۔
یہ مفروضہ بھی ازسرِ نو تنقیح، تجزیے اور فکری محاسبے کا متقاضی ہے کہ آیا دنیا نے واقعی اشتراکیت کو نظریاتی سطح پر مسترد کیا ہے یا محض بعض تاریخی تجربات کے جمود، انحراف، ریاستی تصلب اور سیاسی ناکامیوں سے بیزاری اختیار کی ہے۔ تاریخ کو اگر محض انتخابی نتائج، ریاستی انہدام، ابلاغی بیانیوں یا سرمایہ دارانہ ذرائعِ اظہار کی عینک سے دیکھا جائے تو حقیقت کے بے شمار تہہ در تہہ ابعاد نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ سرد جنگ کے اختتام کے بعد عالمی سرمایہ داری نے جس انداز سے اپنے معاشی، عسکری، ثقافتی اور ابلاغی تسلط کو وسعت بخشی، اس نے دنیا کے متعدد خطوں میں سیاسی توازنات، فکری رجحانات اور معاشی ڈھانچوں کو یکسر تبدیل کر دیا۔ لاطینی امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں کئی ایسی حکومتیں معرضِ وجود میں آئیں جنھیں عوامی تائید و حمایت حاصل تھی، مگر وہ معاشی پابندیوں، خفیہ مداخلتوں، عسکری بغاوتوں، سفارتی دباؤ اور نفسیاتی ابلاغی حربوں کے مرکب استعمال کے ذریعے تدریجاً کمزور، منتشر اور بے اثر بنا دی گئیں۔
اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر ممکن نہیں کہ اشتراکی تجربات کی ناکامیوں میں خارجی سازشوں کے ساتھ داخلی انجماد، فکری تصلب اور ادارہ جاتی تحکم بھی پوری شدت کے ساتھ دخیل تھا۔ متعدد ریاستی ڈھانچے رفتہ رفتہ بیوروکریٹک مرکزیت، طاقت کے ارتکاز، سیاسی جمود، فکری عدمِ رواداری اور اجتماعی شعور سے بیگانگی کا شکار ہو گئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں نظریہ اور اقتدار ایک دوسرے سے تدریجاً اجنبی ہونے لگے۔ مساوات، اجتماعی فلاح، انسانی وقار اور معاشرتی عدل کے خواب کے ساتھ ابھرنے والا فلسفہ بعض مقامات پر ریاستی سخت گیری، فکری جبر اور غیرلچکدار نظمِ اقتدار میں متشکل ہو گیا۔ تاہم اس تاریخی انحراف، ادارہ جاتی انجماد اور سیاسی انحطاط کو خود عدلِ اجتماعی، مساواتِ انسانی اور استحصالی نظام کے خلاف مزاحمت کے کلی تصور کی نفی قرار دینا علمی دیانت، تاریخی بصیرت اور فکری توازن کے منافی ہوگا۔
کیرالہ اس پورے فکری مباحثے میں ایک نہایت اہم، بصیرت افروز اور مطالعاتی مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہاں کی بائیں بازو کی سیاست نے محض اقتدار کے حصول کو اپنا مطمحِ نظر نہیں بنایا بلکہ تعلیم، صحت، شرحِ خواندگی، سماجی بہبود، انسانی ترقی اور عوامی شعور کے میدانوں میں ایسے عملی نمونے پیش کیے جنھیں عالمی سطح پر تحسین، اعتراف اور سنجیدہ مطالعے کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اگر آج وہاں سیاسی مدّوجزر، انتخابی تغیرات اور اقتداری اتار چڑھاؤ موجود ہیں تو یہ جمہوری حرکیات کا فطری مظہر ہے۔ اقتدار کا زوال کسی نظریے کی موت کا قطعی اعلان نہیں ہوتا، ورنہ سرمایہ دارانہ حکومتوں کی مسلسل ناکامیوں، مالیاتی بحرانوں، جنگی حکمتِ عملیوں، ماحولیاتی تباہ کاریوں اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں کے بعد سرمایہ داری کو بھی تاریخ کے قبرستان میں مدفون ہو جانا چاہیے تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں استحصال کی صورتیں پہلے سے کہیں زیادہ دقیق، مخفی، نفسیاتی اور پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ ماضی میں سامراج توپوں، بحری بیڑوں اور عسکری قبضوں کے ذریعے اپنی قوت مسلط کرتا تھا، آج وہ عالمی مالیاتی اداروں، قرضی معاہدوں، کارپوریٹ اجارہ داریوں، ڈیجیٹل نگرانی، الگورتھمک کنٹرول اور ذرائع ابلاغ کے نفسیاتی بیانیوں کے ذریعے اقوام کی اجتماعی حیات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ پہلے نوآبادیات جغرافیوں پر قائم کی جاتی تھیں، اب معیشتوں، پالیسیوں، ابلاغی ڈھانچوں اور فکری نظاموں پر مسلط کی جاتی ہیں۔ پہلے مزدور فیکٹری کے دروازے پر استحصال کا شکار ہوتا تھا، آج ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، غیرمستقل روزگار، گیگ اکانومی اور مصنوعی ذہانت کے عہد میں بھی انسانی محنت سرمایہ کے جبر سے مکمل آزادی حاصل نہیں کر سکی۔
اسی باعث نئی نسل کے اندر ایک بار پھر مساوات، سماجی انصاف، ماحولیاتی تحفظ، انسانی وقار اور معاشی توازن کے سوالات پوری شدّت کے ساتھ ابھر رہے ہیں۔ دنیا کی جامعات، مزدور تحریکوں، ماحولیاتی جدوجہدوں، نسلی مساوات کی عالمی تحریکوں اور خواتین کے حقوق کی بین الاقوامی مہمات میں سرمایہ دارانہ نظام کے اخلاقی بحران، معاشی عدمِ توازن اور تہذیبی تضادات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ممکن ہے اصطلاحات تبدیل ہو گئی ہوں، ممکن ہے سرخ پرچم کی جگہ نئے استعاروں، نئی علامتوں اور جدید بیانیوں نے لے لی ہو، مگر بنیادی سوالات آج بھی اپنی پوری معنویت، شدت اور تاریخی اہمیت کے ساتھ موجود ہیں: دولت چند ہاتھوں میں کیوں مرتکز ہے؟ جنگوں کے ثمرات کن طبقات کو حاصل ہوتے ہیں؟ بھوک کے باوجود خوراک کیوں تلف کی جاتی ہے؟ اور انسانی محنت کے حقیقی ثمرات آخر کس کے حصے میں آتے ہیں؟
تاریخ کبھی خطِ مستقیم میں سفر نہیں کرتی۔ کبھی انقلابات جنم لیتے ہیں، کبھی جابر قوتیں انھیں روند ڈالتی ہیں، کبھی خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں اور کبھی حقیقتیں دوبارہ خوابوں کی دھند میں گم ہو جاتی ہیں۔ مگر انسانی ضمیر کے باطن میں عدل، مساوات، آزادی اور انسانی حرمت کی آرزو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ آج اگر دنیا میں کوئی عظیم اشتراکی سپر پاور موجود نہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ استحصال کا عہد اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ جب تک ظلم، معاشی ناہمواری، جنگی سیاست، بھوک، انسانی تذلیل اور سماجی بے انصافی موجود ہے، تب تک ان کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی زندہ رہیں گی۔ اصل سوال کسی مخصوص نظریے کے عنوان، کسی جھنڈے کے رنگ یا کسی سیاسی اصطلاح کا نہیں بلکہ انسان کی عزت، روٹی، آزادی، عدل، وقار اور مساوات کا ہے۔ اگر جدید دنیا واقعی انسانی ارتقا کی آخری منزل ہے تو پھر ہمیں فکری دیانت اور اخلاقی جرات کے ساتھ یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ آج بھی کروڑوں انسان خوف، محرومی، جبر اور عدمِ تحفظ کے حصار میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور جب تک یہ حصار قائم ہے، تاریخ کا مقدمہ ابھی اپنے آخری اور قطعی فیصلے تک نہیں پہنچا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *