وقت کی راکھ سے ابھرتی داستان: المندرالیخو کا قبلِ تاریخ قلعہ

وقت کی راکھ سے ابھرتی داستان: المندرالیخو کا قبلِ تاریخ قلعہ

پتھروں کے حصار میں رومی سپاہی کا فولاد اور مقتدر تہذیبوں کے ابدی زوال کا فکری مرثیہ

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

المندرالیخو (Almendralejo) کی اس تپتی ہوئی، پُرسکون پہاڑی پر صدیوں سے چھائی خاموشی جب 2021ء میں شمسی توانائی کے ایک جدید منصوبے کے متبادل احتیاطی کھدائی کے دوران ٹوٹی، تو آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں ایک ایسا مہیب اور حیرت انگیز باب کھلا جس نے مروجہ تاریخی خطوط اور زمانوں کی لکیری ترتیب کو یکسر الٹ کر رکھ دیا۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ وہاں محض چند روایتی مٹی کے برتنوں اور نوحجری دور کے معمولی آثار کی توقع کر رہے تھے، لیکن زمین کی گہرائیوں سے تانبے کے دور (Chalcolithic Age) کا ایک ایسا عظیم الشان، نو کونوں پر محیط ماقبلِ تاریخ قلعہ برآمد ہوا جو عسکری فنِ تعمیر اور انجینئرنگ کا ایک اچھوتا شاہکار تھا؛ مگر حیرت کا اصل طوفان اس وقت اٹھا جب اسی پانچ ہزار سال پرانے قلعے کی دیواروں کے اندر سے ایک ایسے نوجوان شخص کی قبر ملی جو رومی سلطنت کے ایک باقاعدہ سپاہی کی طرح عسکری سازوسامان اور اپنے روایتی لوہے کے خنجر (Pugio) کے ساتھ دفن تھا، حالانکہ وہ قلعہ اس تدفین سے کم و بیش ڈھائی ہزار سال پہلے ہی مکمل طور پر اجڑ کر متروک ہو چکا تھا۔ زمانوں کا یہ ملاپ، جہاں قبلِ تاریخ کے انسان کے تراشے ہوئے پتھر اور رومی نوآبادیاتی اقتدار کا نمائندہ فولاد ایک ہی مٹی کے بستر پر ہم آغوش پائے گئے، محض ایک سائنسی دریافت نہیں ہے بلکہ یہ انسانی جبلت، اقتدار کی ہوس، تحفظ کے ابدی وہم اور فنا کے لامتناہی چکر کا ایک گہرا فکری استعارہ، سیاسی ڈراما اور تمثیلی افسانہ ہے جو قاری کو تاریخ کے اس سحر انگیز گورکھ دھندے میں خود کرداروں کے ساتھ چلنے اور وقت کی نبض کو محسوس کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

عہدِ نوحجری کے آخری ادوار اور کانسی کے زمانے کی دہلیز پر، یعنی تقریباً 3000 قبل مسیح میں جب اس قلعے کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں، تو المندرالیخو کے ان بے نام معماروں کے پیشِ نظر صرف ایک ہی ابدی جبلت تھی: اپنے وجود کا تحفظ اور بیرونی دنیا کا لامتناہی خوف، جس کا ثبوت اس قلعے کی بیرونی فصیل کی نو کونوں (Nonagon) پر مشتمل وہ پیچیدہ جومیٹری ہے جس کے ہر زاویے پر دفاعی ابھار یا برج نما برجستیاں (Bastions) تعمیر کی گئی تھیں تاکہ حملہ آوروں کو ہر رخ سے نشانہ بنایا جا سکے، اور یہ اسٹریٹجک فہم اس دور کے انسان کے بارے میں ہمارے ان تمام فرسودہ نظریات کو یکسر مسترد کرتی ہے جو انہیں وحشی یا غیر منظم سمجھتے تھے کیونکہ ستتر میٹر قطر پر محیط اس کی سب سے بڑی دیوار اور اس کے اندر بنے مزید دو دفاعی حصاروں اور گہری خندقوں کا نظام یہ بتاتا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے کا انسان بھی امن اور سلامتی کے معاملے میں کتنا غیرمعمولی طور پر حساس، وہمی اور اپنے اردگرد کے خطرات سے باخبر تھا۔ مگر انسانی تاریخ کا المیہ دیکھیے کہ جس قلعے کو صدیوں کی محنت سے ایک ناقابلِ تسخیر پناہ گاہ بنایا گیا تھا، وہ بھی وقت کے بے رحم دھارے کی نذر ہو کر مٹی کا ڈھیر بن گیا اور اس کے نام و نشان تک کو مٹا کر تاریخ گمنامی کے اندھیروں میں چلی گئی، یہاں تک کہ ڈھائی ہزار سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد جب رومی سلطنت کا جاہ و جلال پوری معلوم دنیا کو اپنے نوآبادیاتی لوہے سے مسخر کر رہا تھا، تو ایک پچیس سے پینتیس سالہ رومی سپاہی اسی ویران، جھلسے ہوئے اور متروک کھنڈر کے ملبے پر نمودار ہوتا ہے اور اسی مٹی کو اپنی آخری آرام گاہ بناتا ہے، گویا ایک ابدی مقتدر طاقت کا کارندہ اس گمنام ماضی کے سائے میں پناہ گزین ہو رہا ہو جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ایک ایسے فکری دواہے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں ہر سوال تاریخ کا ایک نیا سیاسی ڈراما بن کر سامنے آتا ہے۔

اس رومی سپاہی کی تدفین اور اس کے ہاتھ میں دبا وہ زنگ آلود عسکری خنجر (Pugio) جو کبھی روم کے سینیٹ کے فیصلوں، امپیریل پاور اور نوآبادیاتی عزائم کا لوہا منوانے کا نشان تھا، اب المندرالیخو کی اس خاموش چوٹی پر ایک گہرا محققانہ معما بن چکا ہے کیونکہ فرانزک تحقیقات اور اسلوب کا نیا زاویہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ نوجوان سپاہی جزیرہ نما آئبیریا کی تسخیر کے لیے بھیجے گئے کسی رومی لشکر کا وہ مفرور یا زخمی پیادہ تھا جو کسی فراموش شدہ مہم کے دوران اپنے گروہ سے بچھڑ کر ان قدیم اور مہیب دیواروں کو ایک آخری پناہ گاہ سمجھ کر یہاں چھپ گیا اور اپنی بیماری یا زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا، یا پھر یہ روم کی اس مخصوص سامراجی و مابعد الطبیعاتی نفسیات کا حصہ تھا جو اپنے مردوں کو ماضی کی عظیم، پراسرار اور دیومالائی یادگاروں کے سائے میں شعوری طور پر دفن کرتی تھی تاکہ وہ اس خطے پر روم کی علامتی اور ابدی حاکمیت کا جھنڈا گاڑ سکیں اور اقتدار کی ایک نئی اساطیر لکھ سکیں۔ جزیرہ نما آئبیریا کے دیگر قلعے جیسے موٹیلا ڈیل ازوئر (Motilla del Azuer) یا لا باستیدا (La Bastida) بھی اپنی جگہ انجینئرنگ کے بڑے مظاہر ہیں، لیکن المندرالیخو کی اس پہاڑی نے زمانوں کے جس تال میل اور ٹکراؤ کو جنم دیا ہے، وہ انسانی نفسیات کے اس پہلو کو بے نقاب کرتا ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی جدید، مسلح اور طاقتور کیوں نہ ہو جائے، وہ ہمیشہ ماضی کے قدیم کھنڈرات کے سامنے ایک عجیب سی مابعد الطبیعاتی کشش، سحر اور خوف محسوس کرتا ہے، اور یہ رومی سپاہی اپنے نوآبادیاتی غرور کے باوجود اپنی موت کے وقت اسی ماقبلِ تاریخ کی مٹتی ہوئی عظمت کے سائے کا محتاج ہو کر رہ گیا، جو لکیری تاریخ (Linear History) کے اس تصور کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ ماضی مر چکا ہے، کیونکہ ماضی کبھی نہیں مرتا بلکہ وہ زمین کی تہوں میں رینگتا ہوا حال کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیتا ہے۔

المندرالیخو کے اس قدیم تپتے ہوئے کھنڈر کی خاموشی اور اس کے پتھروں کے نیچے چھپا یہ معما دراصل ایک گہرا کائناتی اور فکری استعارہ ہے جو موجودہ انسانی معاشرے، اس کی سائنسی مہم جوئیوں اور اس کے سیاسی و عسکری غرور کو ایک آئینے کی طرح دکھا رہا ہے جہاں نوحجری دور کے ان گمنام معماروں کے تراشے ہوئے مٹیالے پتھر اور رومی سپاہی کے زنگ آلود فولاد کے درمیان کا ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ محض وقت کا فاصلہ نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی اس لامتناہی اور بے سمت دوڑ کا نوحہ ہے جس کا انجام ہمیشہ مٹی کے ایک گمنام ڈھیر اور چند زنگ آلود ہتھیاروں کی شکل میں ہوتا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی جاری فرانزک تحقیقات اور ان کی حیرت دراصل اس حقیقت کا برملا اعتراف ہیں کہ ہم کائنات اور تاریخ کے جتنے بھی بند تالے کھول لیں اور شمسی توانائی کے جدید ترین منصوبوں سے زمین کو مسخر کرنے کی جتنی بھی کوششیں کر لیں، زمین اپنے پیٹ میں ہمیشہ ایسے راز محفوظ رکھتی ہے جو ہماری بساطِ علم کو الٹ کر رکھ دیتے ہیں، اور یہ خاموش پہاڑی آج بھی ہمیں یہ یاد دلا رہی ہے کہ انسان چاہے تانبے کا قلعہ بنائے یا رومی سلطنت کا لوہا کھڑکائے، انجامِ کار اسے اسی مٹی کی آغوش میں لوٹنا ہے جہاں اس کے عروج کی نشانیاں صدیوں بعد کسی آنے والی نسل کے لیے محض ایک حیرت انگیز تماشے، فصیح و بلیغ محققانہ نچوڑ اور سوالیہ نشان سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں، کیونکہ تاریخ اپنے جوابوں سے زیادہ ہمیشہ اپنے تیکھے سوالوں میں زندہ رہتی ہے اور المندرالیخو کی یہ مٹی ان ابدی سوالوں کی سب سے بڑی اور زندہ گواہ بن کر ابھری ہے۔

اسپین کے المندرالیخو میں دریافت ہونے والے اس انوکھے تاریخی مقام کی تصویری جھلکیاں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں، جو اس حیرت انگیز داستان کے دونوں پہلوؤں (قبلِ تاریخ کی عظیم تعمیر اور رومی عسکری دور) کو واضح کرتی ہیں:
پہلی تصویر: المندرالیخو کے اس مقام کا اصل فضائی منظر دکھاتی ہے، جہاں تانبے کے دور (Chalcolithic Age) کی نو کونوں پر محیط منفرد اور منظم دفاعی فصیلوں کو زمین کی سطح پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری تصویر: اس مخصوص رومی فوجی خنجر (Pugio) کی عکاسی کرتی ہے جس کی مانند ہتھیار اس ماقبلِ تاریخ قلعے میں دفن رومی سپاہی کی باقیات کے پاس سے دریافت ہوا، جو اس دور میں رومی لشکر کی بنیادی عسکری شناخت سمجھا جاتا تھا۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos