چین توانائی کی بچت اور کولنگ کے اخراجات کو 10% سے کم کرنے کے لیے AI ڈیٹا سینٹرز سمندر کی تہہ میں نصب کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ کاربن اخراج میں کمی کا منفرد حل ہے، لیکن سرورز سے خارج ہونے والی غیر فطری حرارت سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا کر آبی “مردہ زونز” (Dead Zones) پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
جیسے جیسے مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ تیز ہوتی جا رہی ہے، چین کی ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کو سمندر کی تہہ میں نصب کر رہی ہیں تاکہ انہیں ٹھنڈا رکھنے کے اخراجات میں نمایاں کمی کی جا سکے۔
یہ جدید طریقہ اگرچہ توانائی کی بچت کا ایک منفرد حل پیش کرتا ہے، لیکن اس نے سمندری حیات پر اس کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات کے بارے میں سنگین خدشات بھی جنم دیے ہیں۔
بھاری AI ورک لوڈز کو سنبھالنے کے لیے تیار کیے گئے زیرِ آب ڈیٹا سینٹرز پہلے ہی شنگھائی اور ہائنان کے ساحلوں کے قریب کام کر رہے ہیں، جہاں سمندر کی قدرتی گہرائی کو غیر فعال (Passive) کولنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
چونکہ روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز میں کولنگ کا نظام عموماً کل توانائی کا تقریباً نصف حصہ استعمال کرتا ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق زیرِ آب تنصیب سے یہ شرح کم ہو کر دس فیصد سے بھی نیچے آ جاتی ہے۔
زیادہ توانائی خرچ کرنے والے صنعتی چِلرز کی ضرورت ختم کرکے یہ سمندری ماڈیولز نہ صرف کاربن اخراج میں نمایاں کمی لاتے ہیں بلکہ زمینی وسائل کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تاہم، اس بظاہر ماحول دوست حل کا ایک تشویش ناک پہلو بھی موجود ہے۔
ان بڑے زیرِ آب سرور کلسٹرز سے خارج ہونے والی حرارت نے ماحولیاتی ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے کمپیوٹنگ طاقت بڑھانے کی دوڑ میں ممکنہ طور پر سمندری ماحول میں مسلسل اور غیر فطری حرارت شامل کر رہی ہیں، جس سے نازک آبی ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتے ہیں اور بعض علاقوں میں سمندری “مردہ زونز” (Dead Zones) بننے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
چونکہ اس کے حیاتیاتی اثرات کے بارے میں طویل المدتی تحقیق ابھی مکمل نہیں ہوئی، اس لیے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کمپیوٹنگ صلاحیت میں تیزی سے اضافے کی یہ دوڑ کہیں ماضی کی اُن غلطیوں کو نہ دہرائے جن میں معاشی ترقی کو زمین کے قدرتی ماحول اور حیاتیاتی تنوع کی قیمت پر ترجیح دی گئی تھی۔
نوٹ: تصویر صرف نمائشی مقصد کے لیے استعمال کی گئی ہے۔
#China
#AIRevolution
#futurism
#aicommunity


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *