سام سنگ الیکٹرانکس نے عالمی صارفین کو HBM4E چِپ کے نمونے بھیج دیے ہیں
- ELECTRONICS, Technology
- May 29, 2026

مصنوعی ذہانت کے عہد میں ترقی اُنہی قوموں کا مقدر بنے گی جو علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو اپنی قومی شناخت کا حصہ بنا لیں گی۔ ہم ایک ایسے صنعتی انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں تذبذب کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان کو اب روایتی سوچ سے ہٹ کر ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، تاکہ ہم صارف معاشرہ بننے کے بجائے علم پر مبنی معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکیں۔
READ MORE
کیا آپ جانتے ہیں کہ موبائل ٹاورز یا انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بھی بلوٹوتھ کے ذریعے پیغامات بھیجنا ممکن ہے؟ ‘میش نیٹ ورکنگ’ (Mesh Networking) ٹیکنالوجی پر مبنی ایپس جیسے برج فائی (Bridgefy) اور برائیر (Briar) اب لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف قدرتی آفات کے دوران رابطہ بحال رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، بلکہ پرائیویسی کے متلاشی افراد اور ہنگامی حالات میں بھی ایک محفوظ متبادل فراہم کرتا ہے۔ جانئے کہ کس طرح آپ کا فون ایک دوسرے سے پیغام ‘پاس’ کر کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جاتا ہے اور بغیر کسی مرکزی سرور کے مواصلات کو ممکن بناتا ہے۔
READ MORE
وہ بھی ایک دور تھا … ھم نے وہ دور دیکھا ہے۔
جب موسیقی سننے کے لیئے موبائل ایپ نہیں، چابی والا گراموفون ھوا کرتا تھا۔ ایک لوھے کی چابی کو لگا کر گھما کر گراموفون میں چابی بھری جاتی تھی

آئنسٹائن کی ایک صدی پرانی پیش گوئی 2015 میں اس وقت سچ ثابت ہوئی جب LIGO آبزرویٹری نے پہلی بار دو بلیک ہولز کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کو ریکارڈ کیا۔
READ MORE




کیا آپ جانتے ہیں کہ موبائل ٹاورز یا انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بھی بلوٹوتھ کے ذریعے پیغامات بھیجنا ممکن ہے؟ ‘میش نیٹ ورکنگ’ (Mesh Networking) ٹیکنالوجی پر مبنی ایپس جیسے برج فائی (Bridgefy) اور برائیر (Briar) اب لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف قدرتی آفات کے دوران رابطہ بحال رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، بلکہ پرائیویسی کے متلاشی افراد اور ہنگامی حالات میں بھی ایک محفوظ متبادل فراہم کرتا ہے۔ جانئے کہ کس طرح آپ کا فون ایک دوسرے سے پیغام ‘پاس’ کر کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جاتا ہے اور بغیر کسی مرکزی سرور کے مواصلات کو ممکن بناتا ہے۔

سام سنگ الیکٹرانکس نے اپنی جدید ترین ہائی بینڈوڈتھ میموری (HBM) چِپ کے نمونے بھیجنا شروع کر دیے ہیں

آئنسٹائن کی ایک صدی پرانی پیش گوئی 2015 میں اس وقت سچ ثابت ہوئی جب LIGO آبزرویٹری نے پہلی بار دو بلیک ہولز کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کو ریکارڈ کیا۔

ناسا سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں پانی کا ایک ایسا سمندر ہے جو انسانی ذہن کے تصور سے بالکل باہر ہے یہ محض دعویٰ نہیں ہے بلکہ جیمز ویب ٹیلیسکوپ نے باقاعدہ دیکھا ہے