ایک میل چوڑا دیوہیکل سیارچہ آج زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا

ایک میل چوڑا دیوہیکل سیارچہ آج زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا

آسمان سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے نایاب موقع، مگر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں

تحریر: عبدلجبار سلیمان

فلکیات کے ماہرین کے مطابق تقریباً ایک میل (تقریباً ایک اعشاریہ چھ کلومیٹر) چوڑا ایک عظیم سیارچہ آج زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا۔ اگرچہ فلکیاتی پیمانے کے لحاظ سے یہ فاصلہ نسبتاً کم سمجھا جاتا ہے، لیکن اس سے زمین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔

یہ سیارچہ، جسے 1997 این سی 1 کا نام دیا گیا ہے، زمین سے تقریباً پچیس لاکھ ساٹھ ہزار کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا، جو زمین اور چاند کے درمیانی فاصلے سے بھی تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔

یہ سیارچہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی جسامت دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک، برج خلیفہ، سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔

کیا زمین کو کوئی خطرہ ہے؟

ماہرینِ فلکیات نے واضح کیا ہے کہ اس سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی رفتار اور مدار کا گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور تمام حسابات کے مطابق یہ محفوظ فاصلے سے گزر جائے گا۔

شمالی لندن کی ایک رصدگاہ کے بانی گائے ویلز کے مطابق:

اگرچہ یہ زمین کے قریب آنے والے نسبتاً بڑے سیارچوں میں سے ایک ہے، لیکن عوام کو کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں۔

سیارچہ کب اور کہاں دیکھا جا سکے گا؟

یہ سیارچہ آج اپنے قریب ترین مقام پر پہنچے گا۔ اس وقت یہ تقریباً نو کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہا ہوگا۔

زمین سے سورج کی روشنی اس کی سطح سے منعکس ہو کر نظر آئے گی، جس کی وجہ سے مناسب آلات کی مدد سے اسے دیکھا جا سکے گا۔

فلکیاتی ماہرین کے مطابق:

  • شمالی نصف کرے کے باشندے اسے زمین کے قریب آتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔
  • جنوبی نصف کرے میں رہنے والے افراد اسے زمین سے گزرنے کے بعد بہتر انداز میں دیکھ سکیں گے۔

کیا عام لوگ بھی اسے دیکھ سکتے ہیں؟

جی ہاں۔

اگر موسم صاف ہو اور آسمان پر بادل نہ ہوں تو مناسب دوربین رکھنے والے افراد اس نایاب منظر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق:

  • بڑی دوچشمی دوربین یا چھوٹی فلکی دوربین بہترین انتخاب ہے۔
  • شہروں کی مصنوعی روشنیوں سے دور کسی تاریک مقام پر جانا زیادہ مفید ہوگا۔
  • آنکھوں کو اندھیرے سے مانوس ہونے کے لیے کم از کم بیس منٹ انتظار کرنا چاہیے۔

سیارچہ کتنا بڑا ہے؟

ماہرین کے اندازے کے مطابق اس کی چوڑائی تقریباً:

سات سو پچاس میٹر سے سولہ سو پچاس میٹر کے درمیان ہے۔

اگرچہ اس کی اصل جسامت اس کی سطح کی چمک کے مطابق کچھ کم بھی ہو سکتی ہے، لیکن پھر بھی یہ ایک انتہائی بڑا سیارچہ شمار ہوتا ہے۔

اس کا حجم سن 2013 میں روس کے شہر چیلیابنسک کے اوپر پھٹنے والے شہابی پتھر سے تقریباً ساٹھ گنا زیادہ ہے۔

اگر ایسا سیارچہ زمین سے ٹکرا جائے تو کیا ہوگا؟

ماہرین کے مطابق اگر اس جسامت کا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکرا جائے تو یہ پورے ایک بڑے شہر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایسی ٹکر سے:

  • شدید دھماکہ ہو سکتا ہے۔
  • وسیع پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔
  • ہزاروں جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
  • ماحول اور آب و ہوا پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خوش قسمتی سے موجودہ سیارچہ زمین سے محفوظ فاصلے سے گزر رہا ہے، اس لیے ایسی کسی صورتِ حال کا کوئی اندیشہ نہیں۔

اس سیارچے کی دریافت کب ہوئی؟

اس سیارچے کو پہلی مرتبہ 5 جولائی 1997ء کو دریافت کیا گیا تھا۔

اس کی دریافت زمین کے قریب موجود اجرامِ فلکی کی نگرانی کرنے والے ایک خصوصی منصوبے کے ذریعے ہوئی، جس کے بعد سے دنیا بھر کی خلائی تحقیقی تنظیمیں مسلسل اس کے مدار اور رفتار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سائنس دان اس کا مزید مطالعہ کیوں کر رہے ہیں؟

ماہرین اس سیارچے کی سطح کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے طاقتور ریڈیو دوربین استعمال کریں گے تاکہ اس کا سہ جہتی نمونہ تیار کیا جا سکے۔

اس تحقیق سے معلوم ہوگا کہ آیا یہ:

  • پتھروں کا ڈھیلا ڈھالا مجموعہ ہے،
  • یا ایک مضبوط چٹانی جسم۔

یہ معلومات مستقبل میں زمین کے قریب آنے والے دیگر سیارچوں کی نوعیت سمجھنے میں بھی مدد فراہم کریں گی۔

اسے دیکھنے کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

اگر آپ اس نادر فلکی منظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو درج ذیل باتوں پر عمل کریں:

  • صاف اور بادلوں سے پاک آسمان کا انتخاب کریں۔
  • مصنوعی روشنی سے دور کسی تاریک مقام پر جائیں۔
  • بہتر معیار کی دوچشمی یا فلکی دوربین استعمال کریں۔
  • آنکھوں کو اندھیرے سے ہم آہنگ ہونے کے لیے کچھ وقت دیں۔
  • آسمانی نقشہ دکھانے والی کسی قابلِ اعتماد موبائل ایپ سے سیارچے کی سمت معلوم کریں۔

موسم کی صورتِ حال

ماہرین کے مطابق اگر آسمان پر زیادہ بادل ہوں یا چاند کی روشنی زیادہ ہو تو سیارچے کو دیکھنا مشکل ہو سکتا ہے، کیونکہ مدھم روشنی والے اجرام ایسے حالات میں واضح نظر نہیں آتے۔

سیارچہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر میں کیا فرق ہے؟

فلکیات میں یہ اصطلاحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

سیارچہ

سورج کے گرد گردش کرنے والا نسبتاً بڑا پتھریلا جسم، جو عموماً مریخ اور مشتری کے درمیان واقع خطے میں پایا جاتا ہے۔

دمدار ستارہ

برف، گردوغبار اور مختلف گیسوں پر مشتمل ایسا فلکی جسم جو سورج کے قریب آنے پر روشن دم بنا لیتا ہے۔

شہابی ذرہ

چٹان یا دھات کا چھوٹا ٹکڑا جو خلا میں گردش کر رہا ہو۔

شہابِ ثاقب

جب کوئی شہابی ذرہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر رگڑ کی وجہ سے جلنے لگتا ہے تو آسمان پر روشنی کی لکیر دکھائی دیتی ہے، جسے شہابِ ثاقب کہا جاتا ہے۔

شہابی پتھر

اگر شہابی ذرہ جلنے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہ ہو اور اس کا کوئی حصہ زمین تک پہنچ جائے تو اسے شہابی پتھر کہا جاتا ہے۔

نتیجہ

1997 این سی 1 نامی عظیم سیارچہ اگرچہ فلکیاتی اعتبار سے زمین کے نسبتاً قریب سے گزر رہا ہے، تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس سے زمین کو کسی قسم کا خطرہ نہیں۔

یہ موقع فلکیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک نادر تحفہ ہے، کیونکہ وہ مناسب آلات اور سازگار موسم کی صورت میں اس عظیم فلکی جسم کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ کائنات مسلسل حرکت میں ہے اور جدید سائنس ہمیں ان فلکی اجسام کی بروقت نگرانی اور بہتر فہم فراہم کر رہی ہے، جس سے زمین کے تحفظ اور سائنسی تحقیق دونوں میں مدد ملتی ہے۔

سیارچوں کے بارے میں دلچسپ حقائق

سیارچے نظامِ شمسی کی تخلیق کے ابتدائی دور کے باقی ماندہ پتھریلے اجسام ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ تقریباً چار ارب ساٹھ کروڑ سال پہلے وجود میں آئے، جب ہمارا نظامِ شمسی تشکیل پا رہا تھا۔ ان کا مطالعہ سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ زمین، دوسرے سیارے اور پورا نظامِ شمسی کس طرح وجود میں آیا۔

اگرچہ لاکھوں سیارچے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر مریخ اور مشتری کے درمیان واقع ایک وسیع خطے میں موجود ہیں، جسے سیارچوں کی پٹی کہا جاتا ہے۔

کیا تمام سیارچے خطرناک ہوتے ہیں؟

نہیں، ہرگز نہیں۔

اکثر سیارچے زمین سے بہت دور رہتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہوتا۔ صرف چند ایسے سیارچے ہیں جن کے مدار زمین کے نسبتاً قریب آتے ہیں، اس لیے سائنس دان ان پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔

جدید خلائی تحقیق اور طاقتور دوربینوں کی بدولت زمین کے قریب آنے والے بیشتر بڑے سیارچوں کی کئی برس پہلے ہی نشاندہی کر لی جاتی ہے، جس سے ان کی رفتار، راستے اور ممکنہ خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سائنس دان سیارچوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں؟

سیارچوں کا مطالعہ کئی اہم وجوہات کی بنا پر کیا جاتا ہے، جن میں شامل ہیں:

  • زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا۔
  • نظامِ شمسی کی ابتدا اور ارتقا کو بہتر طور پر سمجھنا۔
  • مستقبل کی خلائی مہمات کی منصوبہ بندی کرنا۔
  • ان میں موجود دھاتوں، معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل کا جائزہ لینا۔

بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلائی وسائل کے استعمال کے لیے سیارچے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اگر کوئی سیارچہ زمین کی طرف آئے تو کیا کیا جا سکتا ہے؟

دنیا کی مختلف خلائی تحقیقی تنظیمیں زمین کے قریب آنے والے سیارچوں پر مسلسل نظر رکھتی ہیں۔ اگر مستقبل میں کسی بڑے سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا حقیقی خطرہ پیدا ہو، تو اس کے راستے کو تبدیل کرنے کے لیے مختلف سائنسی طریقوں پر تحقیق جاری ہے۔

حالیہ برسوں میں سائنس دان ایک خلائی مشن کے ذریعے یہ بھی ثابت کر چکے ہیں کہ مناسب حالات میں کسی خلائی جہاز کی مدد سے ایک چھوٹے سیارچے کے مدار میں معمولی تبدیلی لانا ممکن ہے۔ مستقبل میں یہی طریقہ زمین کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیا سیارچے زمین کے لیے فائدہ مند بھی ہیں؟

اگرچہ بعض سیارچے ممکنہ خطرہ بن سکتے ہیں، لیکن وہ سائنسی تحقیق کے لیے بے حد قیمتی ہیں۔ ان کے مطالعے سے ہمیں کائنات کی تاریخ، سیاروں کی تشکیل، معدنی وسائل اور خلا کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

اسی لیے سائنس دان سیارچوں کو صرف خطرہ نہیں بلکہ کائنات کے قدیم رازوں کے امین بھی قرار دیتے ہیں۔

خلاصۂ کلام

سیارچے قدرت کے حیرت انگیز فلکی اجسام ہیں جو اربوں برس سے سورج کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات ان میں سے کوئی زمین کے نسبتاً قریب سے گزرتا ہے، لیکن جدید سائنسی نگرانی کے باعث ایسے واقعات کا بروقت علم ہو جاتا ہے۔

آج انسان کے پاس اتنی جدید سائنسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ان اجرام کی رفتار، جسامت اور مدار کا درست اندازہ لگا سکتا ہے، ان کا مسلسل مشاہدہ کر سکتا ہے اور مستقبل میں زمین کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی بھی کر سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض کائنات کو نہایت منظم قوانین کے تحت قائم فرمایا ہے، اور انہی قوانین کو سمجھنے کی کوشش علمِ فلکیات کی بنیادی غرض ہے۔ سیارچوں کا مطالعہ نہ صرف سائنسی تحقیق کو فروغ دیتا ہے بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور عظمت پر غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos