جب ہم قدیم تہذیبوں کے علمی ورثے کا جائزہ لیتے ہیں تو چند شخصیات ایسی ابھر کر سامنے آتی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی صدیوں کے علمی دھارے کو بھی نئی سمت عطا کی۔
تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
انسانی تاریخ میں علمِ طب کا ارتقا محض بیماریوں کے علاج کی داستان نہیں بلکہ انسانی شعور، تجربے اور فکری جستجو کی ایک مسلسل روداد ہے۔ جب ہم قدیم تہذیبوں کے علمی ورثے کا جائزہ لیتے ہیں تو چند شخصیات ایسی ابھر کر سامنے آتی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی صدیوں کے علمی دھارے کو بھی نئی سمت عطا کی۔ انہی درخشاں ناموں میں سشروتا کا شمار ہوتا ہے، جنہیں بجا طور پر جراحی کے اولین معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت محض ایک طبیب یا معالج تک محدود نہیں بلکہ وہ ایک ایسے مفکر، معلم اور تجربہ کار سائنس دان کے طور پر سامنے آتے ہیں جنہوں نے علمِ طب کو محض نظری مباحث سے نکال کر عملی میدان میں استوار کیا۔
چھٹی صدی قبل مسیح کا دور انسانی تاریخ میں فکری بیداری کا زمانہ تھا۔ یہی وہ عہد ہے جب مختلف تہذیبوں میں فلسفہ، سائنس اور طب کے بنیادی تصورات تشکیل پا رہے تھے۔ ہندوستان کی سرزمین پر اسی زمانے میں سشروتا سمہیتا جیسی غیر معمولی تصنیف وجود میں آئی، جس نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا میں طبی علوم کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کتاب محض ایک طبی متن نہیں بلکہ ایک مکمل سائنسی دستاویز ہے جس میں مشاہدہ، تجربہ اور استدلال کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ اس میں انسانی جسم کی ساخت، بیماریوں کی درجہ بندی، جراحی طریقوں کی تفصیل اور طبی آلات کی وضاحت اس انداز میں کی گئی ہے جو آج کے سائنسی معیار سے بھی ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔
سشروتا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے سرجری کو ایک منظم علم کے طور پر پیش کیا۔ اس سے قبل جراحی زیادہ تر تجرباتی اور غیر منظم عمل تھا، جس میں نہ تو واضح اصول موجود تھے اور نہ ہی تربیت کا کوئی باقاعدہ نظام۔ سشروتا نے اس خلا کو پر کرتے ہوئے نہ صرف جراحی کے اصول وضع کیے بلکہ اسے ایک باقاعدہ علمی شعبہ بنا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرجری محض ہاتھ کی مہارت کا نام نہیں بلکہ یہ علم، مشاہدہ اور مسلسل مشق کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔
ان کے نظریۂ تعلیم کا سب سے اہم پہلو عملی تربیت پر زور دینا تھا۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ محض کتابی علم کسی بھی معالج کو ماہر سرجن نہیں بنا سکتا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ایسا تربیتی نظام وضع کیا جس میں طلبہ کو مختلف اشیاء پر مشق کروائی جاتی تھی۔ سبزیوں اور پھلوں پر چیرا لگانا، مردہ جانوروں پر تجربات کرنا اور انسانی جسم کی ساخت کو براہِ راست دیکھنا اس نظام کا حصہ تھا۔ یہ طریقہ کار اس بات کی واضح دلیل ہے کہ سشروتا تجرباتی سائنس کے اصولوں سے بخوبی واقف تھے، حالانکہ اس زمانے میں سائنسی طریقۂ کار کی باقاعدہ اصطلاحات بھی موجود نہیں تھیں۔
مزید برآں، سشروتا نے سرجری میں صفائی اور احتیاط کے اصولوں کو غیر معمولی اہمیت دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جراحی آلات صاف اور معیاری ہوں، آپریشن سے پہلے مناسب تیاری کی جائے اور مریض کی بعد از آپریشن دیکھ بھال کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ یہ تصورات آج کے جدید میڈیکل سائنس میں انفیکشن کنٹرول اور اسٹرلائزیشن کے بنیادی اصولوں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سشروتا نہ صرف ایک ماہر سرجن تھے بلکہ وہ انسانی صحت کے جامع تصور کو بھی سمجھتے تھے۔
سشروتا کی علمی بصیرت کا ایک اور اہم پہلو ان کا تجزیاتی انداز فکر ہے۔ انہوں نے بیماریوں کو محض علامات کے مجموعے کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ ان کے اسباب، اثرات اور ممکنہ علاج کو ایک مربوط نظام کے تحت بیان کیا۔ ان کی تحریروں میں ہمیں ایک ایسا سائنسی ذہن نظر آتا ہے جو مشاہدے کو بنیاد بنا کر نتائج اخذ کرتا ہے اور پھر ان نتائج کو عملی طور پر آزماتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو انہیں قدیم دنیا کے دیگر معالجین سے ممتاز کرتی ہے۔
ان کے کام کا سب سے نمایاں پہلو پلاسٹک سرجری، خصوصاً ناک کی تعمیرِ نو کا طریقہ ہے۔ اس زمانے میں جب جسمانی سزاؤں کے نتیجے میں افراد کے اعضا کاٹ دیے جاتے تھے، سشروتا نے ایک ایسا جراحی طریقہ متعارف کروایا جس کے ذریعے ناک کو دوبارہ بنایا جا سکتا تھا۔ یہ محض ایک طبی کامیابی نہیں بلکہ انسانی وقار کی بحالی کا ایک ذریعہ بھی تھا۔ اس طریقے میں جلد کے ٹکڑے کو ایک خاص انداز سے استعمال کیا جاتا تھا، جو آج بھی جدید پلاسٹک سرجری میں ایک بنیادی تکنیک کے طور پر موجود ہے۔
سشروتا کی فکر میں انسان دوستی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے طب کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک خدمت کے طور پر دیکھا۔ ان کے نزدیک ایک معالج کا فرض ہے کہ وہ مریض کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے اور اس کے علاج میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے۔ یہ تصور آج بھی میڈیکل ایتھکس کی بنیادوں میں شامل ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سشروتا کی تعلیمات محض سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی پہلوؤں پر بھی محیط تھیں۔
اگر ہم سشروتا کے کام کو ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے علمِ طب کو ایک ہمہ جہت علمی نظام کی صورت میں پیش کیا۔ ان کے ہاں سائنس، فلسفہ اور اخلاقیات ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک مربوط اکائی کی صورت میں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تعلیمات نے نہ صرف ان کے اپنے عہد کو متاثر کیا بلکہ بعد کی تہذیبوں، خصوصاً عرب اور یورپی دنیا میں بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
یہ تحریر دراصل اس بات کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے کہ سشروتا کی علمی و فکری عظمت کن بنیادوں پر قائم ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *