کورونا کے خلاف نئی ڈھال

کورونا کے خلاف نئی ڈھال

دنیا ابھی کووِڈ-19 کی ہولناک یادوں سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکی کہ سائنسی دنیا سے ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جسے وبائی امراض کے خلاف انسانی جدوجہد میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

دنیا ابھی کووِڈ-19 کی ہولناک یادوں سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکی کہ سائنسی دنیا سے ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جسے وبائی امراض کے خلاف انسانی جدوجہد میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی طبی جریدوں میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق نے پہلی مرتبہ اس امکان کو سائنسی بنیادوں پر تقویت دی ہے کہ ایک اینٹی وائرل گولی نہ صرف کورونا وائرس کے اثرات کو کم کر سکتی ہے بلکہ وائرس کے رابطے میں آنے کے بعد بیماری کو جنم لینے سے بھی روک سکتی ہے۔ جاپانی دوا ساز کمپنی شیونوگی کی تیار کردہ دوا “انسٹریل ویر” نے طبی تحقیق کے میدان میں ایک نئی امید پیدا کی ہے، کیونکہ اب تک بیشتر اینٹی وائرل ادویات بیماری ظاہر ہونے کے بعد استعمال کی جاتی رہی ہیں، جبکہ یہ دوا وائرس کے ابتدائی پھیلاؤ کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن اور سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق اس دوا کے کلینیکل ٹرائلز نے غیر معمولی نتائج دیے ہیں۔ دو ہزار سے زائد افراد پر مشتمل بین الاقوامی مطالعے میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو اُن گھروں میں مقیم تھے جہاں پہلے ہی کسی فرد میں کووِڈ کی علامات ظاہر ہو چکی تھیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد کو پلیسبو دیا گیا اُن میں علامات کی شرح تقریباً نو فیصد رہی، جبکہ انسٹریل ویر استعمال کرنے والوں میں یہ شرح تین فیصد تک محدود ہو گئی۔ بظاہر یہ اعداد و شمار محض طبی اصطلاحات محسوس ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ وبائی امراض کے خلاف انسانی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہیں۔

کورونا وبا نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ وائرس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی بحران بھی بن سکتا ہے۔ لاکھوں جانوں کے ضیاع، صحت کے نظام پر دباؤ، عالمی معیشت کی سست روی اور معاشرتی تنہائی نے انسان کو اس حقیقت کا احساس دلایا کہ متعدی امراض کے خلاف پیشگی دفاعی صلاحیت کتنی اہم ہے۔ ویکسینز نے اگرچہ اموات اور شدید بیماری کے خطرات میں نمایاں کمی کی، لیکن وائرس کی نئی اقسام، مدافعتی نظام کی کمزوری اور بعض افراد میں ویکسین کے محدود اثرات نے سائنس دانوں کو مزید مؤثر متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ انسٹریل ویر اسی تلاش کی ایک اہم کڑی دکھائی دیتی ہے۔

اس دوا کی سائنسی اہمیت اس کے طریقۂ کار میں مضمر ہے۔ کورونا وائرس انسانی جسم میں اپنی نقول بنانے کے لیے ایک مخصوص اینزائم استعمال کرتا ہے۔ انسٹریل ویر اس اینزائم کو بلاک کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وائرس کی افزائش رک جاتی ہے اور بیماری کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ عمل حیاتیاتی سطح پر ایک تکنیکی مداخلت ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں وبائی امراض کے خلاف حکمتِ عملی صرف ویکسین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ “پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس” یعنی وائرس کے رابطے کے بعد فوری حفاظتی علاج بھی عالمی طبی نظام کا مستقل حصہ بن سکتا ہے۔

یہ پیش رفت خاص طور پر اُن افراد کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے جو اب بھی وائرس سے شدید خطرے میں ہیں۔ کیئر ہومز میں رہنے والے بزرگ، اعضا کی پیوندکاری کے بعد مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات استعمال کرنے والے مریض، کینسر کے مریض اور وہ افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے، اکثر ویکسین کے باوجود مکمل تحفظ حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے طبقات کے لیے انسٹریل ویر جیسی دوا ایک حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر مستقبل میں اس کے مزید مثبت نتائج سامنے آتے ہیں تو ممکن ہے کہ وبائی بیماریوں کے دوران ہسپتالوں، نرسنگ ہومز اور حساس مراکز میں اسے حفاظتی پروٹوکول کا حصہ بنا دیا جائے۔

تاہم سائنسی دنیا میں ہر نئی پیش رفت کے ساتھ احتیاط اور تنقیدی جائزہ بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، مگر ماہرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ مختلف اقسام کے کورونا وائرس، طویل المدتی اثرات اور بڑے پیمانے پر استعمال کے نتائج پر مزید تحقیق ناگزیر ہے۔ وائرس کی فطرت مسلسل تغیر پذیر ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی دوا کی افادیت وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی سائنس میں کسی ایک ایجاد کو حتمی حل نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ارتقائی عمل کی ایک اہم منزل تصور کیا جاتا ہے۔

انسٹریل ویر کی کامیابی ایک اور اہم حقیقت کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ جدید طب اب صرف بیماری کے علاج تک محدود نہیں رہی بلکہ بیماری کے آغاز کو روکنے کی سمت میں بھی غیر معمولی پیش رفت کر رہی ہے۔ یہ تصور انسانی تاریخ میں طبی فلسفے کی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ ماضی میں وبائیں پھیلنے کے بعد قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی تھی، جبکہ اب سائنس بیماری کے پھیلنے سے پہلے ہی اس کے راستے مسدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی تبدیلی مستقبل کے عالمی طبی نظام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

کورونا وبا نے انسان کو یہ بھی سکھایا کہ سائنسی تحقیق، عالمی تعاون اور طبی اختراع محض تجربہ گاہوں تک محدود سرگرمیاں نہیں بلکہ انسانی بقا سے جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں۔ آج اگر ایک اینٹی وائرل گولی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی صلاحیت دکھا رہی ہے تو یہ دراصل برسوں کی تحقیق، عالمی اشتراک اور حیاتیاتی سائنس کی مسلسل ترقی کا نتیجہ ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی علامت بھی ہے کہ انسان نے وباؤں کے خلاف جنگ میں صرف دفاعی پوزیشن اختیار نہیں کی بلکہ اب وہ وائرس کی ابتدائی پیش قدمی کو بھی روکنے کی صلاحیت حاصل کرنے لگا ہے۔

ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں انسٹریل ویر جیسی ادویات متعدی امراض کے خلاف ایک نئے دور کی بنیاد رکھیں، جہاں وبا کا مطلب مکمل لاک ڈاؤن، خوف اور عالمی تعطل نہ رہے بلکہ بروقت سائنسی مداخلت کے ذریعے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی محدود کر دیا جائے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos