فکری ہجرت کا المیہ اور مصنوعی ذہانت کا پاکستانی معجزہ

فکری ہجرت کا المیہ اور مصنوعی ذہانت کا پاکستانی معجزہ

صالح آصف اور ان کی ٹیم کی “کرسر” (Cursor) ٹول کے ذریعے کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ جدید دنیا میں روایتی وسائل کے بجائے “ذہنی سرمایہ” اور مصنوعی ذہانت اصل طاقت ہیں۔ یہ کہانی پاکستان کے لیے پیغام ہے کہ انفرادی کامیابیوں پر فخر کرنے کی بجائے ایسا ماحولیاتی نظام (Ecosystem) بنایا جائے جو نوجوانوں کو بیرونی معیشتوں کے بجائے ملک کے اندر ہی تخلیق، تحقیق اور جدت کے مواقع فراہم کر سکے۔

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی

تاریخِ اقوام میں بعض واقعات محض کامیابیوں کے اندراج نہیں ہوتے بلکہ وہ پورے عہد کے فکری مزاج کی ترجمانی بن جاتے ہیں۔ دنیا کے بدلتے ہوئے تکنیکی منظرنامے میں ایسے ہی چند واقعات میں ایک نام صالح آصف کا بھی شامل ہو چکا ہے، جس کی داستان ایک فرد کی کامیابی سے کہیں بڑھ کر علم، جدت اور تخلیقی صلاحیت کی اُس طاقت کا اظہار ہے جو جغرافیائی حدود، معاشی رکاوٹوں اور روایتی امکانات سے ماورا ہو کر عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر لیتی ہے۔

کراچی کی مصروف شاہراہوں، محدود وسائل اور متوسط طبقے کے خوابوں سے جنم لینے والی یہ کہانی دراصل اُس خاموش فکری انقلاب کی علامت ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی صورت میں برپا ہو رہا ہے۔ دنیا اب خام مال، کارخانوں اور قدرتی وسائل کے دور سے آگے نکل کر “ذہنی سرمائے” کے عہد میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی قوم کی اصل طاقت اس کے تیل کے ذخائر، زرعی پیداوار یا معدنی دولت سے نہیں بلکہ اس کے تخلیقی اذہان، تحقیقی اداروں اور اختراعی صلاحیت سے ماپی جاتی ہے۔

صالح آصف اور ان کے رفقائے کار کی جانب سے تخلیق کردہ “کرسر” اسی نئے عہد کی ایک نمایاں علامت ہے۔ بظاہر یہ ایک سافٹ ویئر ٹول ہے، لیکن درحقیقت یہ انسانی اور مصنوعی ذہانت کے اشتراک سے وجود میں آنے والی اُس نئی تہذیب کا نمائندہ ہے جہاں کمپیوٹر محض احکامات پر عمل نہیں کرتے بلکہ تخلیقی عمل میں انسان کے معاون بن جاتے ہیں۔ چند برس قبل تک پروگرامنگ ایک پیچیدہ، وقت طلب اور انتہائی مہارت طلب سرگرمی سمجھی جاتی تھی، مگر اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوڈ لکھنے، غلطیاں تلاش کرنے اور مکمل سافٹ ویئر تیار کرنے کے تصورات حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں۔

یہاں قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بڑی کامیابیاں ہمیشہ کامیاب تجربات سے نہیں بلکہ ناکام تجربات سے جنم لیتی ہیں۔ صالح آصف اور ان کی ٹیم کا ابتدائی منصوبہ مطلوبہ نتائج نہ دے سکا، لیکن انہوں نے ناکامی کو انجام نہیں بلکہ آغاز سمجھا۔ یہی وہ وصف ہے جو ترقی یافتہ معاشروں کو ممتاز کرتا ہے۔ وہاں ناکامی کو مجرمانہ غلطی نہیں بلکہ سیکھنے کے عمل کا ناگزیر حصہ تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں اکثر ناکامی کو قابلیت کے خاتمے کا اعلان سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی ذہنی فرق قوموں کی ترقی اور زوال کے درمیان فاصلہ پیدا کرتا ہے۔

مزید دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی معیشت نے دولت کی تخلیق کے تمام روایتی پیمانے بدل دیے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب اربوں ڈالر کی کمپنیوں کے پیچھے وسیع کارخانے، ہزاروں ایکڑ زمینیں اور بھاری صنعتی ڈھانچے موجود ہوتے تھے۔ آج چند نوجوان، چند کمپیوٹر اور ایک انقلابی تصور مل کر ایسی معاشی قدر پیدا کر سکتے ہیں جو کئی ریاستوں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب زمین، عمارتوں اور مشینری سے زیادہ انسانی ذہن کی اختراعی صلاحیت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

یہ تبدیلی پاکستان کے لیے بھی ایک غیر معمولی پیغام رکھتی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے نوجوان دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ طب، انجینئرنگ، کاروبار، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں پاکستانی نژاد شخصیات نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن ہر ایسی کامیابی کے ساتھ ایک تلخ سوال بھی جنم لیتا ہے۔ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو ان ذہانتوں کو عالمی شہرت تو دلاتی ہیں مگر ان کی تخلیقی توانائی کا بڑا حصہ پاکستان کے بجائے بیرونی معیشتوں کے کام آتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں محض تعلیم کافی نہیں رہی۔ تخلیقی معیشت کو تحقیق، سرمایہ کاری، تیز رفتار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، آزاد فکری ماحول، مؤثر قانونی تحفظ اور خطرہ مول لینے والی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جنہوں نے سلیکون ویلی، بوسٹن، لندن اور سنگاپور کو عالمی جدت کے مراکز میں تبدیل کیا۔ جب تک کسی معاشرے میں نوجوان کو تجربہ کرنے، غلطی کرنے اور دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی آزادی حاصل نہیں ہوگی، وہاں عالمی سطح کے اسٹارٹ اپس کا فروغ محض خواہش ہی رہے گا۔

صالح آصف کی کامیابی اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ ہمیں اب صرف ملازمتوں کی معیشت سے نکل کر اختراع کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔ نئی نسل کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ مسائل کے حل تلاش کرنے کی تربیت دینا ہوگی۔ جامعات کو محض امتحانی مراکز کے بجائے تحقیقی تجربہ گاہوں میں تبدیل کرنا ہوگا اور سرمایہ کاروں کو جائیداد اور روایتی تجارت سے آگے بڑھ کر علم اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگانے کی ترغیب دینی ہوگی۔

اصل سوال یہ نہیں کہ ایک پاکستانی نوجوان نے عالمی سطح پر کتنی دولت پیدا کی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جہاں سینکڑوں اور ہزاروں صالح آصف جنم لے سکیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہم محض دوسروں کی کامیابیوں پر فخر کرتے رہیں گے، اور اگر جواب اثبات میں ہے تو پاکستان آئندہ دہائیوں میں مصنوعی ذہانت اور علمی معیشت کے عالمی نقشے پر ایک اہم مقام حاصل کر سکتا ہے۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم انفرادی کامیابیوں کو تعریفی خبروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں قومی پالیسی کے آئینے میں دیکھیں۔ کیونکہ مستقبل کی دنیا میں وہی قومیں قیادت کریں گی جو اپنے نوجوانوں کے ذہنوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ تخلیق، تحقیق اور جدت کے مواقع فراہم کریں گی۔ صالح آصف کی کہانی دراصل اسی مستقبل کی ایک روشن جھلک ہے؛ ایک ایسی جھلک جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ذہانت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، لیکن اس کے پھل کہاں پروان چڑھتے ہیں، اس کا فیصلہ قوموں کی ترجیحات کرتی ہیں۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos