ایک نابغہ روزگار شخصيت شہيد حكيم محمد سعيد

ایک نابغہ روزگار شخصيت شہيد حكيم محمد سعيد

پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اسلامی مملکت کے روپ میں دیکھنا اپ کا ایک خواب تھا اپ کی ذات میں جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا

تحریر : محمد ذوالقرنین مظہر

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
نو جنوری 1920 کو اسمان دنیا پر ایک درخشاں ستارہ دہلی کے مقام پر طلوع ہوا جو کہ دو سال کی عمر میں ہی اپنے والد کے سائے سے محروم ہو گیا اس کی تعلیم و تربیت اور کردار سازی میں ان کی والدہ محترمہ اور برادر اکبر عبدالحمید نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اس نو نہال کا نام محمد سعید تھا اس ہونہار بچے نے نو سال کی عمر میں قران حفظ کر لیا جب جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو اس بچے کا ذاتی رجحان صحافت کی طرف تھا لیکن برادر محترم کے مشورے کا احترام کرتے ہوئے سعادت مندی کا ثبوت دیا اور شعبہ طب سے وابستہ ہوئے اور طبیہ کالج دہلی سے فارغ التحصیل ہو کر 1940 میں اسی پیشے کو اختیار کیا اور اس طرح اپنا ایک باعزت مقام متعین کر لیا اور بڑی اسودہ اور مطمئن زندگی گزارنے لگے

پاکستان سے محبت

پاکستان کے معرض وجود میں انے کے بعد اپ کو ہندوستان میں اس حکومت کا وفادار بن کر رہنا گوارا نہ ہوا اور 1948 میں ایک خوشحال اور اسودہ زندگی کو چھوڑ کر پاکستان میں اگئے پاکستان کی محبت ان کو یہاں کھینچ لائی کراچی میں 15 روپے ماہوار کرائے کے کمرے سے اپنے مطب ہمدردکا اغاز کیا

اپ کو پاکستان اور اس کی ہر شے سے بڑی الفت اور محبت تھی اور پاکستان کو ایک ترقی یافتہ اسلامی مملکت کے روپ میں دیکھنا اپ کا ایک خواب تھا اپ کی ذات میں جذبہ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا

مدینۃ الحکمت کی تعمیر

اپ کے کار ہائے نمایاں میں مدینۃ الحکمت کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے اس کی تعمیر کا خیال اپ کو مقام ابراہیم کے مقدس مقام پر ایا اور سرمائے کی قلت کے باوجود عزم صمیم جذبے اور مضبوط قوت ارادی کے بل بوتے پر اسے ممکن کر دکھایا مدینۃ الحکمت واقعی علم و سائنس اور ثقافت کا مرکز ہے یہ تقریبا 1350 ایکڑ پر محیط ہے اس میں ہمدرد پبلک سکول اور کالجز اور ہمدرد یونیورسٹی واقع ہے جہاں ہزاروں طلباء اور طالبات علم کے جواہرات سے خود کو اراستہ کر رہے ہیں صرف ہمدرد یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہزار کے قریب بیرونی طلباء مقیم ہیں اس شہر عظیم میں ایشیا کے بڑے کتب خانوں میں سے ایک بیت الحکمت بھی موجود ہے اور اس لائبریری میں پانچ لاکھ سے زائد نادر کتابیں موجود ہیں اس میں کثیر تعداد میں یتیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی انتظام موجود ہے اس میں ہمدرد میڈیکل کمپلیکس ہمدرد ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایک سائنس میوزیم اور سپورٹ سٹیڈیم کھیل کا میدان ض اور انٹرنیشنل لیول کا اڈیٹوریم بھی موجود ہے

اپ کی بچوں سے محبت
اپ کی زندگی میں بچوں سے محبت کے عملی مظاہرےواضح طور پر نظر اتے ہیں اپ نے بچوں کے لیے بہت سا صحت مند ادب بھی تخلیق کیا جو اس محبت کا عملی مظاہرہ ہے اب اپ اپنے مطب میں بھی بچوں کے لیے ٹافیاں رکھا کرتے تھے اور اس سے بچوں کی تواضع کرتے اور بچوں کے لیے تاریخی رسالہ ماہ نامہ ہمدرد نو نہال بچوں کے معیاری اور پاکیزہ ادب کا شاہکار بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 1953 میں سے کراچی سے شائع ہوا اور اور بقول ڈاکٹر جمیل جالبی یہ پانچ نسلوں کی تربیت مکمل کر چکا تھا،اپ نے 1978 میں بچوں کے لیے دلچسپ اور عملی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی شروع کیا اور پھر 1988 میں نو نہال ادب کے نام سے ہمدرد فاؤنڈیشن کا ایک مستقل شعبہ بھی قائم کیاجس کے تحت سیکڑوں کتب کی اشاعت ہوئی ہے اپنی انتہائی مصروفیت کے باوجود اپ بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور تحریر کیا کرتے تھے جب اپ سندھ کے گورنر بنے تو اس مصروفیت کے دور میں بھی نو نہال کو نہیں بھولے اپ نے بچوں کے لیے ایک سائنسی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کا پروگرام بنایا جس کا سلسلہ اپ کے بعد بھی جاری رہا شہید حکیم محمد سعید نے بچوں کے لیے خود بھی کتابیں تحریرکیں بچوں کے لیے ہمدر پبلک سکول بچوں کی بڑی معیاری دستہوں میں اس کا شمار ہوتا ہے

فروغ طب میں اپ کا کردار
فروغ طب میں اپ کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اپ نے حکیم ڈاکٹر اور سائنس دان کے اشتراک کو عملی شکل دی کہ اس مثلث میں ہی دنیا میں صحت کے مسائل کا حل مضمر ہے اس کو اپ نے اتحاد ثلاثہ کا نام دیا عالمی ادارہ صحت نے بھی متبادل طریقہ علاج alternate medicine کو تسلیم کیا ہے جامعہ ہمدرد اس نظریے کو قدم بہ قدم اگے بڑھا رہی ہے دانشوروں اور اطیاء کرام میں اپ کو طب کے مجدد کا خطاب دیا ہے اطبا ءکا سرکاری طور پر تسلیم کیا جانا طب کو عالمی سطح پر موضوع فکر بنانا اور تحقیق کی راہ پر گامزن کرنا اپ ہی کے کردار کا حصہ ہے اپ نے طب یونانی کو طب مشرق کے نام سے مقبول و مشہور کرایا

اپ نے رسالہ ہمدرد صحت جاری کیا جو کسی بھی لحاظ سے کسی بین الاقوامی میڈیکل جریدے سے کم نہیں اور صحیح طور پر اسے کسی بھی انٹرنیشنل میڈیکل جرنل کا ہم پلہ قرار دیا جا سکتا ہے ہزاروں لوگ اس کا مطالعہ کرتے ہیں اور اپنے صحت کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ کر صحت مندانہ زندگی گزار رہے ہیں اسےسے عوام اور خواص کے علاوہ طب سے تعلق رکھنے والے بھی یکساں طور پر مستفید ہو رہے ہیں
اپ نے ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ مریضوں کا علاج معالجہ کیا ہے اپ نے متبادل ادویات کے حق میں مخلصانہ جدوجہد کی اور مختلف ممالک میں ادویات کے متبادل نظاموں کے خلاف تعصبات کو دور کرنے کی سعی پیہم کی اور اس میں اپ کافی حد تک کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے طب کے شعبے میں بھی قابل قدر اور ناقابل فراموش خدمات سر انجام دینے کے اعتراف میں اپ کو بعد از وفات نشان امتیاز عطا کیا گیا

ایک متاثر کن شخصیت
اپ واقعی ایک متاثر کن شخصیت کے حامل تھے جس مسئلےکے لیے طویل گفتگو کی ضرورت ہوتی تھی اپ اسے بڑے اختصار کے ساتھ واضح کر دیتے تھے اور یہ اپ کی شخصیت کا خاصہ تھا اپ انسان دوست اور کردار کے غازی تھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے یہ شعر اپ ہی کے لیے کہا تھا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ہمدرد صرف ایک ادارہ ہی نہیں بلکہ تعلیم و صحت و سماجی بہبود کی ایک مسلسل تحریک ہے شہید حکیم محمد سعید اس پاک وطن کے محسن تھے اپ مرد مومن حکیم العصر عظیم محقق اور مفکر ہی نہ تھے بلکہ اپنی ذات میں ایک مکمل ادارہ و انجمن و تحریک تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اپ واقعی رازی اور بو علی سینا کے جانشین تھے پورا قران اپ کے سینے میں محفوظ تھا
میر نے کہا تھا
جانے کا نہیں شور میرے سخن کا ہرگز
تا حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا
اسی طرح شہید حکیم سعید زندہ رہیں گے شہید تو ویسے بھی زندہ ہوتے ہیں اپ اپنے افکار میں کردار میں اپنے اداروں میں اپنے تحریر کردہ ادب اور کتابوں اور اپنی تعلیمی درسگاہوں میں طب مشرق کی تاریخ و ارتقا کہ سفر میں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گے

حکیم محمدسعید کی شہادت

حکیم محمد سعید کو 17 اکتوبر 1998ء کو کراچی کے علاقے آرام باغ میں جہاں ان کا مطب واقع تھا ان کے مطب کے باہر صبح سویرے نا معلوم دہشت گردوں نےفائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا۔ وہ روزے کی حالت میں تھے اور اپنے معمول کے مطابق مریضوں کے علاج کے لیے کلینک پہنچے تھے: ان کی شہادت پر ملک بھر میں احتجاج اور غم و غصے کا شدید اظہار کیا گیا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔
سبزۂ نَورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے۔

مصنف کا تعارف:

نام۔ محمد ذوالقرنین مظہر
تعلیم ۔ ایم اے اردو لینگویج اینڈ لٹریچر بی ایڈ
ڈپلومہ ان الیکٹرانکس
ایئر فورس کے اسکول اف الیکٹرانکس میں الیکٹرانکس پڑھانے کا تجربہ
ایئر فورس میں 18 سالہ سروس کے بعد ریٹائرمنٹ
نادرن جنریشن کمپنی کے تھرمل پاور سٹیشن میں الیکٹرانکس لیبارٹری کے انچارج رہے اور 21 سال سروس کے بعد ریٹائرمنٹ
تقریبا اخری اٹھ سال تک عملی سائنس کے لیے مسلسل ارٹیکل لکھے

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos