ہانٹا وائرس، کیا پاکستان میں بھی خطرہ بڑھ رہا ہے؟

ہانٹا وائرس، کیا پاکستان میں بھی خطرہ بڑھ رہا ہے؟

ہانٹا وائرس چوہوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا خطرناک وائرس ہے۔ پاکستان میں فی الحال کسی بڑی وبا کی تصدیق نہیں، تاہم چوہوں کی بڑھتی آبادی اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے اس خطرے پر توجہ بڑھا دی ہے۔

ہانٹا وائرس ایک ایسا نام ہے جو حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر دوبارہ خبروں اور طبی حلقوں میں زیر بحث آیا ہے۔ یہ دراصل وائرسز کا ایک گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں اور ان سے ملتے جلتے جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ انسان عموماً متاثرہ چوہوں کے پیشاب، فضلے یا لعاب سے آلودہ ماحول کے ذریعے اس وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہانٹا وائرس کی بعض اقسام شدید بیماری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

پاکستان میں ستمبر 2026 تک ہانٹا وائرس کی کسی بڑی یا ملک گیر وبا کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم اس بیماری کے حوالے سے مقامی ماہرین کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی شہروں میں چوہوں کی تعداد، ناقص صفائی، کھلے کوڑے اور سیوریج کے مسائل موجود ہیں۔

2026 میں پشاور میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے بھی عوامی سطح پر تشویش سامنے آئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق شہریوں نے چوہوں کی بہتات اور ان سے متعلق صحت کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر مؤثر کنٹرول اقدامات کا مطالبہ کیا۔ بعض مقامی حلقوں نے ہانٹا وائرس کے ممکنہ خطرے کا ذکر بھی کیا، تاہم یہ خدشات کسی تصدیق شدہ مقامی ہانٹا وائرس وبا کے مترادف نہیں ہیں۔

پاکستانی ماہرین بھی اس وائرس پر تحقیق کر رہے ہیں۔ جولائی 2026 میں پاکستانی محققین کی جانب سے ہانٹا وائرس کے متعلق ایک جامع سائنسی جائزہ شائع ہوا، جس میں وائرس کی اقسام، اس کے پھیلاؤ، علامات، تشخیص اور ممکنہ علاج پر موجود عالمی تحقیق کا جائزہ لیا گیا۔ اس تحقیق سے پاکستان میں نئی وبا ثابت نہیں ہوتی، البتہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی ماہرین اس بیماری کو ایک ابھرتے ہوئے صحت عامہ کے مسئلے کے طور پر سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے حوالے سے جولائی 2026 میں شائع ہونے والے ایک اور تحقیقی مضمون میں ماحولیاتی تبدیلی، مون سون کی شدید بارشوں، سیلاب، تیزی سے پھیلتے شہروں اور چوہوں کی آبادی میں تبدیلی کو ہانٹا وائرس کے ممکنہ خطرے سے جوڑا گیا۔ محققین کے مطابق خطے میں بہتر نگرانی اور انسانوں، جانوروں اور ماحول کو ایک ساتھ دیکھنے والے “ون ہیلتھ” نظام کی ضرورت ہے۔

یہ وائرس عام طور پر متاثرہ چوہے کے کاٹنے سے ہی نہیں پھیلتا۔ زیادہ اہم راستہ وہ باریک ذرات ہیں جو خشک فضلے، پیشاب یا آلودہ گرد کے ہوا میں شامل ہونے سے سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بند گودام، طویل عرصے سے بند کمرے، کھیت، اناج ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور چوہوں سے متاثرہ مکانات خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہانٹا وائرس کی علامات ابتدا میں عام فلو جیسی محسوس ہو سکتی ہیں۔ بخار، شدید تھکن، سر درد، پٹھوں میں درد، متلی، الٹی اور پیٹ کی تکلیف اس کی ابتدائی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اقسام میں مرض آگے بڑھنے کے بعد سانس لینے میں دشواری اور پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے جیسی خطرناک کیفیت پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں پائی جانے والی بعض اقسام گردوں اور خون کی نالیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔

2026 میں دنیا کے مختلف ممالک سے منسلک ایک کروز شپ پر بھی Andes hantavirus کے کیسز سامنے آئے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس واقعے سے مجموعی طور پر 13 کیسز منسلک ہوئے، جن میں 12 کی لیبارٹری تصدیق ہوئی، جبکہ تین اموات رپورٹ ہوئیں۔ جولائی تک عالمی ادارۂ صحت نے اس مخصوص وبائی واقعے کو قابو میں قرار دے دیا تھا۔ اس واقعے کا پاکستان سے براہ راست تعلق سامنے نہیں آیا۔

ہانٹا وائرس سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم قدم چوہوں سے رابطہ کم کرنا ہے۔ گھر اور اردگرد کھانے پینے کی اشیا محفوظ رکھنا، کوڑا بروقت ٹھکانے لگانا اور ایسی جگہوں کو صاف رکھنا ضروری ہے جہاں چوہے بسیرا کر سکتے ہیں۔ چوہوں کے خشک فضلے یا پیشاب کو براہ راست جھاڑو سے صاف کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس عمل سے آلودہ ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔

فی الحال ہانٹا وائرس کے خلاف کوئی ایسا مخصوص علاج موجود نہیں جو تمام اقسام کے انفیکشن کو ختم کر سکے۔ شدید مریضوں کو ہسپتال میں معاون علاج، آکسیجن، جسم میں پانی اور نمکیات کے توازن اور ضرورت پڑنے پر گردوں یا سانس کے نظام کی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ بروقت تشخیص اور طبی نگہداشت شدید بیماری کی صورت میں بہت اہم ہے۔

پاکستان کے لیے فی الحال سب سے مناسب رویہ خوف پھیلانا نہیں بلکہ نگرانی اور احتیاط ہے۔ ملک میں بڑی ہانٹا وائرس وبا کی تصدیق موجود نہیں، لیکن چوہوں کی بڑی آبادی، شہری صفائی کے مسائل، سیلاب اور بدلتا ہوا ماحول ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے اس وائرس اور دوسری چوہوں سے پھیلنے والی بیماریوں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔

Editor
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos