چاند سے ٹکرا گیا فالکن ۹ راکٹ!

چاند سے ٹکرا گیا فالکن ۹ راکٹ!

اسپیس ایکس کے فالکن ۹ راکٹ کا استعمال شدہ حصہ چاند سے جا ٹکرایا۔ یہ غیر ارادی تصادم تھا، جس نے ایک بار پھر خلائی ملبے کے مسئلے کو اجاگر کر دیا۔

تحریر: حمیدہ رحمٰن کھوکھر

5 اگست 2026 کو اسپیس ایکس کے Falcon 9 راکٹ کا استعمال شدہ Upper Stage تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔ یہ کوئی منصوبہ بند تصادم نہیں تھا بلکہ مشن مکمل ہونے کے بعد خلا میں گردش کرتے ہوئے کششِ ثقل کے باعث چاند سے جا ٹکرایا۔

🌍 خوش قسمتی سے اس واقعے سے زمین یا چاند کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا، لیکن اس نے ایک بار پھر خلائی ملبے (Space Debris) کے مسئلے کو دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا۔

5 اگست 2026 کو خلائی دنیا میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا، جب اسپیس ایکس (SpaceX) کے فالکن 9 (Falcon 9) راکٹ کا ایک استعمال شدہ اوپری حصہ (Upper Stage) چاند کی سطح سے جا ٹکرایا۔ سوشل میڈیا پر اس خبر نے کافی توجہ حاصل کی، لیکن بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ شاید اسپیس ایکس نے جان بوجھ کر راکٹ چاند سے ٹکرایا۔ حقیقت اس سے مختلف ہے۔

فالکن 9 کو چاند سے ٹکرانے کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ اسے 15 جنوری 2025 کو دو قمری مشن خلا میں بھیجنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

– Blue Ghost قمری لینڈر (Firefly Aerospace)
– RESILIENCE قمری لینڈر (ispace)

راکٹ نے دونوں خلائی مشن کامیابی سے ان کے راستے پر روانہ کر دیا۔ اس کے بعد اس کا اوپری حصہ خلا میں رہ گیا، کیونکہ اسے واپس زمین پر لانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کا اوپری حصہ تقریباً ڈیڑھ سال تک خلا میں گردش کرتا رہا۔ اس دوران زمین، چاند اور سورج کی کششِ ثقل نے آہستہ آہستہ اس کا راستہ تبدیل کر دیا۔ آخرکار 5 اگست 2026 کو وہ چاند کے آئن اسٹائن کریٹر (Einstein Crater) کے قریب جا ٹکرایا۔

سائنس دانوں کے مطابق تصادم کے وقت اس کی رفتار تقریباً:

– 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ
– یعنی تقریباً 2.4 کلومیٹر فی سیکنڈ
– یا تقریباً 5,400 میل فی گھنٹہ

اتنی زیادہ رفتار کی وجہ سے چاند کی سطح پر ایک نیا گڑھا بننے کا امکان ہے۔

یہ مکمل طور پر ایک غیر ارادی (Accidental) تصادم تھا۔ اسپیس ایکس کا مقصد صرف قمری مشن روانہ کرنا تھا، نہ کہ راکٹ کو چاند سے ٹکرانا۔

خلائی ماہرین نے کئی ماہ پہلے ہی راکٹ کے مدار کا حساب لگا لیا تھا اور پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ چاند سے ٹکرائے گا۔ بعد ازاں اس کے متوقع وقت اور مقام کے مطابق تصادم کی تصدیق کی گئی۔ چاند کے اس حصے پر براہِ راست کیمرہ موجود نہیں تھا، اس لیے ویڈیو دستیاب نہیں، لیکن مدار کی پیمائش اور دیگر سائنسی مشاہدات سے واقعے کی تصدیق ہوئی۔

اس تصادم سے چاند کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ چاند پر پہلے ہی لاکھوں گڑھے موجود ہیں، جو اربوں سال سے شہابیوں اور خلائی چٹانوں کے ٹکرانے سے بنتے رہے ہیں۔ اس راکٹ کے ٹکرانے سے صرف ایک نیا چھوٹا گڑھا بننے کا امکان ہے، جبکہ چاند کی گردش یا زمین پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔

یہ واقعہ خلائی ملبے (Space Debris) کے مسئلے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب راکٹ اپنا مشن مکمل کر لیتے ہیں تو ان کے کچھ حصے خلا میں رہ جاتے ہیں۔ اگر ان کی مناسب نگرانی نہ کی جائے تو وہ مستقبل میں دوسرے خلائی مشنوں یا آسمانی اجسام سے ٹکرا سکتے ہیں۔ اسی لیے خلائی ادارے اب خلائی ملبے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا اوپری حصہ 5 اگست 2026 کو تقریباً 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرایا۔ یہ تصادم منصوبہ بند نہیں تھا بلکہ مشن مکمل ہونے کے بعد راکٹ کے خلا میں بھٹکنے اور کششِ ثقل کے اثرات کی وجہ سے پیش آیا۔ خوش قسمتی سے اس سے نہ زمین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا اور نہ ہی چاند کو کوئی نمایاں نقصان پہنچا، تاہم اس واقعے نے خلائی ملبے کے مسئلے پر ایک بار پھر دنیا کی توجہ مبذول کر دی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos