1963 میں متعارف ہونے والی آڈیو کیسٹ نے موسیقی سننے اور محفوظ کرنے کا انداز بدل دیا۔ پاکستان میں بھی اس نے موسیقی کی صنعت پر گہرا اثر ڈالا۔ آج کیسٹ ماضی کا حصہ ہے، مگر اس کا رومانس آج بھی زندہ ہے۔
تحریر و تحقیق : نورین عبدالعزیز
آواز کی دنیا پر حکمرانی کرنے اور آواز کی ترسیل کے انداز کو بدل دینے والی آڈیو کیسٹ کی ایجاد کو آج 63 سال مکمل ہوگئے!
اگر آپ میوزک کے دلدادہ ہیں اور میوزک کلیکشن بھی رکھتے ہیں تو یقیناً آڈیو کیسٹ سے آپ کا ایک رومانس ضرور ہوگا۔ یہ Compact Audio Cassette جس پر 1961ء سے کام جاری تھا، 1963ء میں Philips نے برلن ریڈیو شو کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کی۔ اس کے ساتھ Philips کا پہلا Compact Cassette Recorder بھی متعارف ہوا۔
اس سے قبل Reel-to-Reel اسپول استعمال ہوتے تھے جو شفاف اور واضح آواز کے لیے گراموفون ریکارڈ سے زیادہ مؤثر سمجھے جاتے۔ کیسٹ نے اپنا حجم مختصر کرکے اسپول کی طرح دونوں چرخیاں پلاسٹک کے خول میں محفوظ کیں جس سے ریکارڈنگ زیادہ آسان، محفوظ اور قابلِ نقل بن گئیں۔
ابتدائی کیسٹیں بنیادی طور پر آواز اور ڈکٹیٹیشن کے لیے بنائی گئی تھیں، لیکن جلد ہی موسیقی کے لیے ان کا معیار بہتر ہونے لگا۔ Philips نے ابتدائی دور میں 45 منٹ کی کیسٹ پیش کی، پھر 1966ء میں Maxell نے 60 اور 90 منٹ کی کیسٹیں متعارف کرائیں۔ جاپان کی Sony سمیت کئی کمپنیوں نے اس ٹیکنالوجی کو آگے بڑھایا تو اسٹیریو ساؤنڈ بھی کیسٹ کا حصہ بن گیا۔ Philips نے بھی 1973ء تک Hi-Fi stereo cassette recorders متعارف کرا دیے تھے۔
کیسٹ کی آمد نے میوزک انڈسٹری میں انقلاب برپا کردیا جس نے گراموفون ریکارڈ، خصوصاً 33 RPM Long Play Record کو سخت مقابلہ دیا۔ میوزیکل کمپنیوں نے گانوں کو کیسٹ پر ریکارڈ کرکے جاری کرنا شروع کیا تو انفرادی گلوکار کے نغماتی مجموعے کے لیے “البم” کی اصطلاح عام ہونے لگی۔ واضح رہے کہ 1966ء تک کیسٹ پر باقاعدہ البمز بھی جاری ہونے لگے تھے۔
کیسٹ کی دنیا میں Tokyo Denki Kagaku Kogyo ایک معتبر نام تھا، جو اپنے مخفف TDK سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ 1966ء میں TDK نے Synchro Cassette متعارف کرائی، لیکن موسیقی کے لیے اس کا معیار ابھی محدود تھا۔ لہذٰا TDK نے بہتر مقناطیسی مواد تیار کیا اور 1968ء میں سپر ڈائنامک کیسٹ پیش کی، جسے TDK خود موسیقی کی ریکارڈنگ کے لیے اپنی پہلی کیسٹ قرار دیتا ہے۔ اس کے معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ناسا نے اپنے کامیاب خلائی مشن Appolo میں ساؤنڈ ریکارڈنگ کے لیے بھی TDK کی کیسٹس استعمال کی تھیں۔
پاکستان میں آڈیو کیسٹ 1972ء میں متعارف ہوئیں۔ فلپس کے ساتھ جاپان کی Maxell نے بھی آتے ہی عوام کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہ جاپانی کیسٹیں ابتداء میں خاصی مہنگی تھیں، بعد میں سنگاپور اور تائیوان سے تیار شدہ کیسٹیں پاکستان اور بھارت آنے لگیں، جس سے یہ ٹیکنالوجی باآسانی عوام کی پہنچ میں آگئی۔
اس زمانے میں گراموفون ریکارڈ کا کاروبار اپنے عروج پر تھا۔ عوام اپنی پسند کے گانوں کا انتخاب کیسٹ پر “ڈب” کروانے لگے۔ فیصل آباد کے رحمت گراموفون ہاؤس نے فوراً اس نئے رجحان کو بھانپ لیا اور 1973ء میں RGH لیبل کے تحت گراموفون ریکارڈز سے کیسٹیں تیار کرکے جاری کیں۔
بس پھر کیا تھا! ۔۔۔ پاکستان بھر میں آڈیو کیسٹوں کی دکانیں اور میوزک سینٹر کھلنے لگے۔ ہر محلے میں کوئی نہ کوئی میوزک سینٹر ہوتا جہاں نئے گانے تیز آواز میں بجا کر خریدار متوجہ کیے جاتے۔ یہاں تک کہ بعض شہروں میں تو آڈیو کیسٹوں کی پوری مارکیٹیں قائم ہوگئیں۔
1976ء میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے بھی آڈیو کیسٹ پر اپنے البمز جاری کرنا شروع کیے اور سب سے پہلے ریڈیو پاکستان کے اشتراک سے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تقاریر کو کیسٹ کی صورت میں پیش کیا۔ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی جو نیم سرکاری ادارہ تھا اس نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے اشتراک سے کئی اہم نغماتی مجموعے بھی جاری کیے جن میں نعتیہ کلام، قوالیاں، کلامِ اقبال، ملی نغمے اور لوک گیت بھی شامل تھے۔ ریڈیو پاکستان کی طرف سے آڈیو کیسٹ پر مکمل قرآنِ کریم پیش کرنے کی سعادت بھی شالیمار ریکارڈنگ کمپنی کے حصے میں آئی ۔
1977ء میں EMI Pakistan نے پاکستان ٹیلی وژن کے اشتراک سے ٹی وی پر نشر ہونے والے گیتوں کو “TV Hits” کے نام سے جاری کرنا شروع کیا۔ پاکستانی فلموں کے گیت بھی Motion Picture Original Sound Tracks کے ذیلی عنوان سے کیسٹ پر آنے لگے۔ ای ایم ائی پاکستان اور پی ٹی وی کے درمیان موسیقی کی ریکارڈنگ اور تقسیم کا یہ تعلق پاکستانی موسیقی کی صنعت کے لیے اہم مرحلہ تھا۔
رحمت گراموفون زیادہ تر لوک اور روایتی فن پارے جاری کرتی رہی جبکہ شالیمار کی جانب سے مختلف انواع کے آئٹمز منظرعام پر آتے رہے۔ 1978ء میں لوک ورثہ نے پاکستانی لوک اور روایتی گیتوں کی کیسٹیں جاری کرنا شروع کیں۔
1980ء کی دہائی میں Sonic Enterprises اور Eagle Stereo نے بھی اپنا مقام بنایا۔ پاکستانی گانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی گیتوں کی غیر کاپی رائٹ ترسیل بھی جاری رہی۔ کاروباری ضرورت کے تحت Tony، ARC، URC، Rita، VIP، Deepak، Diamond سمیت کئی کمپنیاں میدان میں آگئیں کیونکہ ابھی کاپی رائٹ کا قانون سخت نہ تھا اور جب سخت ہوا تو جھنکار کے نام پر Creation کا سہارا لیا گیا ۔۔!!
1990ء کی دہائی کے نصف میں جاپانی معیاری کیسٹوں کے مقابلے میں چین سے درآمد شدہ کم قیمت اور کم معیار کی کیسٹیں مارکیٹ پر چھا گئی تھیں۔ “Sona” جیسے لیبل اور کرسٹل کیسٹوں کے نام سے ہلکے پلاسٹک اور غیر معیاری ہیڈ والی کیسٹیں عام ہوگئیں۔ ان کے ناقص ہیڈ بعض اوقات قیمتی ٹیپ ریکارڈر کے ہیڈ کو بھی متاثر کرتے تھے، اسی لیے شوقین حضرات معیاری پلیئر میں ایسی کیسٹیں چلانے سے گریز کرتے۔
کیسٹ نے صرف موسیقی سننے کا انداز نہیں بدلا بلکہ سماجی اور سیاسی حالات پر بھی اثر ڈالا۔ ایران کے انقلاب میں آڈیو کیسٹ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کے لیکچرز اور فرانس میں مقیم روح اللہ خمینی کے بیانات بھی آڈیو کیسٹوں کے ذریعے ہی ایران کے عوام تک پہنچتے رہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں دینی بیانات، تقاریر اور موٹیویشنل لیکچرز بھی کیسٹوں کے ذریعے عام ہوئے۔اس دور میں کئی نجی تنظیموں اور اداروں نے اپنے ساتھ آڈیو وژول شعبے قائم کیے جہاں ان کا پیغام بڑی تعداد میں آڈیو کیسٹوں کی شکل میں عوام تک پہنچایا جاتا تھا۔
ہمارے ہاں نئی ٹیکنالوجی کے انکار کی فرسودہ سوچ کیسٹ کے معاملے میں بھی نظر آئی۔ بعض گراموفون کلیکٹروں نے کیسٹ کو قبول نہیں کیا اور آج بھی کچھ لوگ جدید لیزر آڈیو کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کی آواز میں “وہ بات” نہیں۔حالانکہ اصل مسئلہ صرف آواز کا نہیں، اسپیکر اور اس سے بھی زیادہ سوچ کا ہوتا ہے۔
اسی زمانے میں پاکستان میں بھارتی موسیقی کی غیر کاپی رائٹ شدہ کیسیٹوں کے ساتھ مغربی موسیقی کے پائریٹڈ ایڈیشن بھی عام تھے۔ Spectrum کے ایڈیشن صرف 30 روپے میں مل جاتے، جنھوں نے پاکستان میں مائیکل جیکسن، جارج مائیکل، جنیفر لوپز، رکی مارٹن، بیک اسٹریٹ بوائز، بوائے زون اور ایکوا جیسے فنکاروں کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سونک انٹرپرائزز کی ماہانہ “New & Nice Songs” کیسٹ بھی بھارتی گیتوں کے شائقین میں خاصی مقبول تھی اور یہ ان کیسٹوں میں نمایاں تھی جس پر مہینہ اور سال باقاعدگی سے درج ہوتا تھا۔
1990ء کی دہائی میں ساؤنڈ ماسٹر نے پاکستانی پاپ میوزک کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور کئی نامور پاپ گلوکاروں کے البم اسی لیبل سے وابستہ تھے۔
سنہ 2000ء کے آغاز میں BMN Records اور پھر Sadaf Stereo بھی آڈیو کیسٹ کی دنیا میں مستحکم شناخت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ ہیرا کمپنی نے بھی اپنا اسٹوڈیو قائم کیا جہاں نئے فنکاروں کی ریکارڈنگ کی جاتی جس نے رحمت گراموفون کمپنی کی جگہ لی لیکن بعد میں یہ نعتیہ کلام تک محدود ہوگئی اور نعت خوانوں کے بھی فنکاروں کی طرح زرق برق لباس اور پوز میں پوسٹرز شائع کروا کر میوزک سینٹروں میں آویزاں ہونے لگے۔
لیکن اب زمانہ بدل چکا تھا۔ عوام کیسٹ سے Compact Disc یعنی سی ڈی کی طرف جا رہے تھے۔ لیزر ٹیکنالوجی کی آواز کے معیار نے کیسٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ پھر CD کا زمانہ بھی گزرا اور آج موسیقی USB بلکہ ایک چھوٹی سے SD Card میں سمٹ آئی ہے ۔۔ مگر آڈیو کیسٹ کا رومانس آج بھی زندہ ہے۔
کیونکہ کیسٹ صرف آواز محفوظ نہیں کرتی، یادیں بھی محفوظ کرتی ہے۔
آج بھی اگر پچاس سال پرانی کیسٹ کسی ٹیپ ریکارڈر میں لگائیں تو اس میں سے ابھرتی ہوئی آواز آپ کو صرف گانا نہیں سناتی، بلکہ آپ کو آپ کے حسین ماضی میں لے جاتی ہے۔۔۔!!

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *