آج کل سوشل میڈیا پر ٹیلی کمیونیکیشن بل کے حوالے سے کافی شور مچا ہوا ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمپنیاں کسی کی بھی زمین پر بغیر پوچھے ٹاور لگا سکیں گی اور شہریوں کو کروڑوں روپے جرمانہ ہوگا۔
تحریر: افرائیم سلیمان
پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کافی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کمپنیاں اب کسی کی بھی نجی ملکیت پر بغیر اجازت ٹاور لگا سکیں گی اور انکار کرنے والوں کو کروڑوں روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ یہ باتیں حقیقت سے بہت دور ہیں اور انہیں صرف سنسنی پھیلانے کے لیے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے تاکہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر موجود کچھ غیر مصدقہ اکاؤنٹس اور “کلک بیٹ” (Clickbait) مواد بنانے والے افراد کا مقصد سچائی پہنچانا نہیں بلکہ ڈر اور خوف پیدا کر کے ویوز اور فالوورز حاصل کرنا ہے۔ ان عناصر نے قانونی مسودے کی بعض شقوں، جن کا تعلق “رائٹ آف وے” (Right of Way) یعنی راستے کے حق سے ہے، کو غلط رنگ دے کر پیش کیا ہے۔ اصل میں ‘رائٹ آف وے’ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں سڑکوں، سرکاری تنصیبات اور عوامی راستوں پر بغیر کسی رکاوٹ کے فائبر آپٹک بچھا سکیں تاکہ ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ اور 5G کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان عناصر نے اسی قانون کو عام شہریوں کی ذاتی زمین سے جوڑ دیا تاکہ عوام میں حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کے خلاف نفرت پیدا ہو۔
حکومتی وضاحت اور تازہ ترین پارلیمانی رپورٹ کے مطابق، اس بل میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو کسی نجی مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین یا گھر پر ٹاور نصب کرنے کی اجازت دیتی ہو۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت ہر شہری کی نجی ملکیت کا حق مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اگر کوئی کمپنی اپنی تنصیبات کسی نجی جگہ پر لگانا چاہتی ہے، تو اسے پہلے مالک سے قانونی معاہدہ کرنا ہوگا اور مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ یا معاوضہ طے کرنا ہوگا۔
جہاں تک بل میں تجویز کردہ بھاری جرمانوں (جنہیں سوشل میڈیا پر 50 ملین یا اس سے زیادہ بتایا جا رہا ہے) کا تعلق ہے، تو یہ عام شہریوں کے لیے ہرگز نہیں ہیں۔ یہ جرمانے ان عناصر یا بڑی کمپنیوں کے لیے تجویز کیے گئے ہیں جو ملکی انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر نقصان پہنچاتے ہیں، فائبر آپٹک کیبلز کو جان بوجھ کر کاٹتے ہیں، یا کسی بھی سرکاری مواصلاتی پروجیکٹ میں غیر قانونی طور پر رکاوٹ ڈالتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے اس بات پر سختی سے زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی قانون سازی کرتے وقت عوام کے نجی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ وہ تمام شقوں پر نظر ثانی کر رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی کمپنی قانون کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکے۔ فی الحال یہ بل سینیٹ کی کمیٹی کے پاس ہے اور اس میں ترمیم کا عمل جاری ہے تاکہ اسے مزید شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن کا جدید انفراسٹرکچر وقت کی ضرورت ہے۔ بغیر ایک مضبوط نیٹ ورک کے پاکستان ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے رہ جائے گا۔ اس لیے، حکومت کا مقصد مواصلاتی شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے تاکہ کمپنیاں جوابدہ ہوں، نہ کہ عوام کو پریشان کرنا۔ ایک منظم قانون سازی کے ذریعے کمپنیاں اور شہری دونوں کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا رہا ہے۔
آخر میں، یہ گزارش ہے کہ کسی بھی ایسی خبر پر فوراً یقین نہ کریں جو آپ کو سوشل میڈیا پر ملے، خاص طور پر جب وہ کسی بل یا قانون کے بارے میں ہو۔ ہمیشہ سرکاری ذرائع یا مستند اخبارات سے تصدیق کر لیا کریں۔ پروپیگنڈا کرنے والے عناصر آپ کے خوف کو استعمال کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئین اور قانون آپ کی نجی ملکیت کے محافظ ہیں۔
SOURCES OF RESEARCH
Business Recorder: Telecom bill: govt panel rules out access to private property without consent
https://www.brecorder.com/news/40427166
Arab News: Pakistani lawmakers halt telecom bill over property rights concerns
https://www.arabnews.pk/node/2647918/pakistan
The Express Tribune: Right-of-way reform critical for digital economy
https://tribune.com.pk/story/2614312/right-of-way-reform-critical-for-digital-economy
National Assembly of Pakistan: Official document regarding the Amendment Act 2026
https://www.na.gov.pk/uploads/documents/6a2a8e28e486b_438.pdf

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *