1907 میں ہیٹ اسٹروک کے علاج کے لیے ایجاد ہونے والا “روح افزا” تقسیم کے باوجود پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبول ہے۔ یہ لال شربت اپنے قدیم فارمولے کے ساتھ آج بھی گرمیوں کی پہلی پسند ہے۔
ایک سو بیس سال پہلے اس حکیم نے گرمی سے بچنے کےلئے ایک دوائی بنائی اور آج ہندوستانی اور پاکستانی گرمیوں میں اسکے بغیر رہ نہیں سکتے
یہ بات ہے 1907 کے موسم گرما کی جب ہندوستان کے شہر دہلی میں آسمان سے گویا آگ برس رہی تھی۔ شہر کے مشہور یونانی طب کے ماہر حکیم عبدالمجید نے کچھ دل دہلادینے والے مناظر دیکھے کہ لوگ خاص طور پر مزدور جلتی دوپہروں میں ہیٹ سٹروک کا شکار ہوکر گرنے لگے اور کئی تو مربھی گئے۔ حکیم صاحب کے پاس لائے گئے مریضوں کےلئے انہوں نے روایتی دوائیں تجویز کرنے کی بجائے کچھ ہٹ کر کیا۔ اپنی حکمت کا استعمال کرتے ہوئے، انہوں نے قدرتی اجزاء جیسے گلاب کی پنکھڑیوں اور جڑی بوٹیوں کو ملاکر ایک خاص شربت بنانا شروع کیا۔ اس شربت کو انہوں نے ” روح افزا” کا نام دیا، جس کا مطلب ہے روح کی تازگی،اور اسے ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے اپنے مریضوں کو دیا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ ایک الگ داستان ہے۔ لوگوں نے اسے دوا کے طور پر نہیں بلکہ آنے والی ہر گرمیوں میں تازگی کے طور پر پینا شروع کر دیا۔ 1940 کی دہائی تک یہ شربت ہر ہندوستانی گھرانے کا حصہ بن گیا۔ لیکن پھر 1947 آیا۔ تقسیم کے بعدحکیم صاحب کا ایک بیٹا ہندوستان میں رہا، جب کہ دوسرا پاکستان چلا آیا اور یہاں آبائی کاروبار شروع کر دیا۔ کہانی یہاں ختم نہیں بلکہ شروع ہوتی ہے۔ ملک دو بن جانے کے باوجود بھی روح افزا کا فارمولا اور مقبولیت وہی رہی۔ یہ سرحد کے دونوں طرف پانی، دودھ اور فالودہ وغیرہ میں ڈال کر پینے کےلئے یکساں طور پر مقبول رہا ۔ آج روح افزا کی سالانہ فروخت لگ بھگ 500 کروڑ کے قریب ہے۔ لیکن یہ اب بھی 1907 کے اسی فارمولے پر بناکر اسی روائتی انداز کی بوتل میں ڈال کر بیچا جاتا ہے۔ اگرچہ اب اس لال شربت کے مقابلے پر بہت سے دوسرے شربت بھی آگئے ہیں لیکن روح افزا کو پینے والے آج بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کو کونسا لال شربت پسند ہے؟ روح افزا یا جام شیریں؟


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *