انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کے بغیر رابطہ: ‘میش نیٹ ورک’ اور بلوٹوتھ میسجنگ کا انقلاب

انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کے بغیر رابطہ: ‘میش نیٹ ورک’ اور بلوٹوتھ میسجنگ کا انقلاب

کیا آپ جانتے ہیں کہ موبائل ٹاورز یا انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں بھی بلوٹوتھ کے ذریعے پیغامات بھیجنا ممکن ہے؟ ‘میش نیٹ ورکنگ’ (Mesh Networking) ٹیکنالوجی پر مبنی ایپس جیسے برج فائی (Bridgefy) اور برائیر (Briar) اب لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ رہی ہیں۔ یہ طریقہ کار نہ صرف قدرتی آفات کے دوران رابطہ بحال رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، بلکہ پرائیویسی کے متلاشی افراد اور ہنگامی حالات میں بھی ایک محفوظ متبادل فراہم کرتا ہے۔ جانئے کہ کس طرح آپ کا فون ایک دوسرے سے پیغام ‘پاس’ کر کے ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جاتا ہے اور بغیر کسی مرکزی سرور کے مواصلات کو ممکن بناتا ہے۔

اپ نے حال ہی میں ضرور بلوٹوتھ استعمال کیا ہوگا شاید اجکل بھی اب بلوٹوتھ ہیڈ فونز استعمال کر رہے ہوں
لیکن کیا اپ جانتے ہیں کہ اپ بلوٹوتھ کے ذریعے پیغام بھیج سکتے ہیں
نہ وائی فائی نہ موبائل سگنل صرف بلوٹوتھ
ٹویٹر کے شریک بانی جیک ڈوسی نے حال ہی میں ایک ایپ متعارف کروائی ہے جو یہی کام کرتی ہے
گو یہ پہلی ایپ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی کئی ایپس کام کر رہیں ہیں جیسے
برج فائی ایپ Bridgefy
بیر Briar

یہ کیسے کام کرتی ہے اور اپ کے لیے کیا کچھ ممکن بناتی ہے
جیک ڈاؤن سی کی بلوٹوتھ میسجنگ ایپ کا نام ہے بٹ چیٹ
فی الحال یہ صرف بیٹا ٹیسٹنگ میں ہے قریبی لوگوں سے بلوٹوتھ کے ذریعے چیٹ کرنے کا ائیڈیا نیا نہیں ہے سادہ لفظوں میں اپ کا پیغام ایک فون سے دوسرے فون تک چھلانگ لگا کر پہنچ جاتا ہے اسے میش نیٹورک کہا جاتا ہے
لیکن پہلے یہ سمجھتے ہیں کہ اپ کو اس کی ضرورت کے اوپر سکتی ہے بلوٹوتھ میسجنگ کن حالات میں مفید ہے ایک تو دہی علاقوں میں رابطہ برقرار رکھنا ایسے علاقوں میں جہاں موبائل ٹاورز یا انٹرنیٹ دستیاب نہیں وہاں بلوٹوتھ ایک اپشن ہو سکتا ہے بلوٹوتھ میسجنگ ایپس کے ذریعے لوگ اپنا کمیونیکیشن نیٹورک بنا سکتے ہیں بغیر کسی اضافی ڈھانچے کے جتنا زیادہ لوگ اس نیٹ ورک میں شامل ہوں گے پیغامات اتنے ہی دور تک جا سکتے ہیں ان ایپس کو استعمال کرنے کے لیے نہ کوئی اکاؤنٹ چاہیے نہ ای میل ایڈریس نہ فون نمبر یعنی وہ لوگ جو اپنا ڈیٹا بڑی کمپنیوں جیسے میٹا کو نہیں دینا چاہتے ان کے لیے یہ ایک متبادل ہو سکتا ہے دوسری بات قدرتی افات کے دوران رابطہ جب زلزلہ یا طوفان جیسی افت اتی ہے تو اکثر موبائل ٹاورز غیر فعال ہو جاتے ہیں ایسے میں میش نیٹورک سے لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہ سکتے ہیں یہ نیٹ ورک تیزی سے قائم ہو جاتے ہیں جس سے ریسکیو ٹیمیں اور مقامی افراد فوری رابطہ کر سکتے ہیں
مثال کے طور پر 2017 میں میکسیکو سٹی میں زلزلے کے دوران لوگوں نے برج فائی ایپ کے ذریعے رابطہ قائم رکھا تیسری بات مظاہروں کے دوران محفوظ کمیونیکیشن 2019 میں ہانگ کانگ کے مظاہروں کے دوران لوگوں نے بلوٹوتھ میسجنگ کے ذریعے رابطے رکھے
یہ پیغامات کسی سرور پر نہیں جاتے یہ اپ کی فون پر انکرپٹ ہو کر محفوظ ہوتے ہیں اور ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس تک منتقل ہو جاتے ہیں یہ طریقہ حکومتوں کے لیے نگرانی یا پابندی لگانا مشکل بناتا ہے اگر اپ بلوٹوتھ میسجنگ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو برج فائے بیر یا مستقل میں شاید بٹ چیٹ جیسی ایپ انسٹال کرنا ہو گی
ایپ انسٹال کرنے کے لیے ایک بار انٹرنیٹ کنکشن درکار ہوتا ہے
لیکن یاد رکھیے بلوٹوتھ کمیونیکیشن کی کچھ حدود بھی ہیں یہ صرف تبھی کام کرتی ہے جب اپ کے قریب کافی لوگ ایپ استعمال کر رہے ہوں یہ بڑی فائلز یا ویڈیوز بھیجنے کے لیے نہیں بنی
اب اتے ہیں اس ٹیکنالوجی کی تفصیل کی طرف بلوٹوتھ کمیونیکیشن کیسے کام کرتی ہے
بلوٹوتھ دو ڈیوائسز کو قریبی فاصلے پر ریڈیو ویوز کے ذریعے جوڑتا ہے جب دو ڈیوائسز پیئر ہوتی ہیں تو یہ ایک مخصوص فریکونسی یعنی چینل کا انتخاب کرتی ہیں تاکہ صرف اپس میں بات کریں اور ارد گرد کی دوسری ڈیوائسز سے مداخلت نہ ہو ایک بار پیئرنگ ہو جانے کے بعد یہ ڈیوائسز ڈیٹا کا تبادلہ کر سکتی ہیں بلوٹوتھ کی سیکیورٹی کی خاص بات ڈیٹا مکمل انکرپٹ ہوتا ہے یعنی محفوظ ہوتا ہے ڈیٹا کسی بیرونی سرور یا نیٹ ورک سے نہیں گزرتا
پیئر ڈیوائسز ہر سیکنڈ میں تقریبا 1600 بار چینل بدلتی ہیں اگر کوئی ہیکر کسی چینل پر نقب لگا بھی لیتا ہے تو اسے صرف معمولی سا ڈیٹا ہی ہاتھ اتا ہے بلوٹوتھ کی میسجنگ رینج تقریبا50سے 100 میٹر ہوتی ہے اگر فاصلے زیادہ ہوں تو میچ نیٹورک کام کرتا ہے جس میں کئی ڈیوائسز جڑ کر پیغامات ایک دوسرے تک پہنچاتی ہیں جیسے جیسے صارفین حرکت کرتے ہیں ان کی ڈیوائسز گروپس بناتی ہیں یہ گروپس اپس میں جڑ کر لمبے فاصلے تک پیغامات پہنچاتے ہیں
لیکن یاد رکھیے صرف بھیجنے اور وصول کرنے والا ہی پیغام پڑھ سکتا ہے باقی سب صرف اسے اگے بڑھاتے ہیں جیسے کوئی بند لفافہ
اب اگر ذیادہ لوگ بلوٹوتھ میسجنگ ایپس انسٹال کریں گے تو ایک گاؤں یا ایک شہر کے لوگ سب آپس میں کنیکٹ ہو جائیں
اور چاہے وہ ایک دوسرے کو جانتے بھی نا ہوں مگر ایک کا میسیج دوسرے کو پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے
بشکریہ ڈی ڈبلیو

Editor
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos