کس کس نے گراموفون پر گانے سنے ہیں ؟

کس کس نے گراموفون پر گانے سنے ہیں ؟

وہ بھی ایک دور تھا … ھم نے وہ دور دیکھا ہے۔
جب موسیقی سننے کے لیئے موبائل ایپ نہیں، چابی والا گراموفون ھوا کرتا تھا۔ ایک لوھے کی چابی کو لگا کر گھما کر گراموفون میں چابی بھری جاتی تھی

🔘کس کس نے گراموفون پر گانے سنے ہیں ؟📀

++ ( تحریر و ترتیب ✒️:– راحیل قریشی 🍂 )++

وہ بھی ایک دور تھا … ھم نے وہ دور دیکھا ہے۔
جب موسیقی سننے کے لیئے موبائل ایپ نہیں، چابی والا گراموفون ھوا کرتا تھا۔ ایک لوھے کی چابی کو لگا کر گھما کر گراموفون میں چابی بھری جاتی تھی ، تب اس کے اوپر لگا ھوا ٹرن ٹیبل گھومتا تھا اس کے اوپر عموماً بلیک کلر کا ہارڈ پلاسٹک کا توا یعنی ریکارڈ ڈسک رکھتے تھے جس پر گولائی میں باریک باریک لکیریں بنی ھوتی تھیں جس میں گانے ریکارڈڈ ھوتے تھے۔ جب اس ٹرن ٹیبل پر ریکارڈ اس خاص رفتار سے گھومنے لگتا تو اس کے اوپر دھاتی Arm کو احتیاط سے شروع والے حصے پر جس میں گراموفون کی اسٹیل والی باریک سوئی لگی ھوئی تھی اسکو نازک انداز میں ریکارڈ پر رکھا جاتا اور پھر

📀💿🔘( His Master’s Voice )🔘💽📀

کا وہ جادو شروع ھوجاتا جس میں شور بھی تھا، خراشیں بھی… مگر دل کو چھو لینے والی روح بھی۔ وہ موسیقی صرف سنائی ھی نہیں دیتی تھی، بلکہ محسوس ھوتی تھی۔ھر گھماؤ کے ساتھ اور ھر آواز کے ساتھ ایک موسیقی اور گانا سنائی دینے لگتا تھا۔ جب گانا اختتام پذیر ھونے لگتا تو یہ سوئی والا Arm گھومتے گھومتے ریکارڈ کے آخری حصے تک پہنچ چکا ھوتا تھا جہاں لکیریں بھی اختتام پذیر ھو جاتی تھیں اور خالی گھومتا رہتا تھا تب کوئی بھی اٹھ کر اس Arm کو اپنے ہاتھ سے اٹھا کر اسکے Rest والے حصے پر رکھ دیتا پھر یا تو ریکارڈ کو پلٹ کر لگاتا تو دوسری جانب بھی دوسرا گانا ھوتا تھا۔
💿
پھر چابی بھر کے سوئی ریکارڈ پر رکھ کے گانا سنا جاتا۔ وقت کے ساتھ اس گراموفون نے بھی ترقی کر لی کہ میکانیکل آٹومیٹک ریکارڈ چینجر بھی آ گئے جس میں ایک وقت میں دس بارہ ریکارڈ لوڈ کر دیئے جاتے تھے جو ایک کے بعد ایک ھر ریکارڈ کے اختتام ھونے ہے خودکار طور پر چلتے رہتے تھے مگر اس تبدیلی تک چابی بھرنے والا سسٹم بھی ختم ھو چکا تھا کیونکہ بجلی سے چلنے والی موٹر ان میں لگا دی گئی تھی ۔ ریکارڈ پر رکھنے والی اسٹیل کی سوئیاں ایک دھاتی ڈبے میں آتی تھیں جو گھس جانے پر تبدیل کرنا پڑتی تھیں پرانی ناکارہ سوئی کو پھینک دیا جاتا تھا۔ اب وقت کے ساتھ اس میں پھر ترقی آئی کہ سوئی فکس کرنے کا طریقہ بھی اختتام پذیر ھوا اور

یہ گراموفون الیکٹرونکس سسٹم میں تبدیل ھوا اس میں ایمپلی فائر لگا دیئے گئے اور آوازیں بھی واضح ھو کر لاؤڈسپیکر کے ذریعے صاف سنائی دینے لگیں ۔ ریڈیو تو پہلے ھی آ چکا تھا پھر اس نے مزید ترقی کی کہ لکڑی کے بہت بڑے سائز میں ریڈیو اور گراموفون لاؤڈسپیکروں کے ساتھ یکجا کرکے (ریڈیو گرام) کی شکل اختیار کر لی مگر یہ انتہائی بڑے بڑے سائز میں بہت خوبصورت ڈیزائن میں بنائے جاتے تھے لیکن یہ ریڈیو گرام اس دور میں صرف مالدار افراد کے گھروں میں ھی ملتے تھے ۔
🔘
گراموفون کے اردگرد بیٹھا خاندان، خاموشی سے سنتے ھوئے بزرگ، اور بچوں کی آنکھوں میں تجسس یہ سب مل کر ایک مکمل منظر بناتے تھے۔آج سب کچھ ڈیجیٹل ہے، صاف ستھرا اور فوری…
مگر اس زمانے کی سادگی، وہ خراش بھری دل سوز آوازیں اور ان کے ساتھ جڑی یادیں

🔘💽📀“His Master’s Voice” 🔘💽📀

اب بھی دل کے کسی کونے میں آہستہ آہستہ بجتا رہتا ہے ۔واقعی…وہ بھی کیا دور تھا۔

{{{بھولی بسری یادوں سے ایک اقتباس}}}

📀💽🔘📢

Editor
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos